اسلام آباد : وفاقی حکومت نے تین سال سے زائد عرصے تک آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کے بعد اب اس شرح کو روکنے کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔ انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات اور سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے مشترکہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے یہ انکشاف کیا، سینیٹرز امیر ولی الدین چشتی اور ثمینہ ممتاز زہری کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور مربوط پالیسی اصلاحات کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی، واضح رہے کہ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور 2030ء تک یہ انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ کر چوتھے نمبر پر پہنچ جائے گا۔ وفاقی وزیر صحت نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آبادی کے انتظام پر کئی اعلیٰ سطح کے اجلاس بلائے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں، جو تیز رفتار آبادی کے اضافے سے نمٹنے کے لیے حکومتی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے، اس کے علاوہ وزیر خزانہ اور وزیر منصوبہ بندی بھی اس کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دلیل دی کہ موجودہ نیشنل فنانس کمیشن یعنی این ایف سی ایوارڈ فارمولا، جس کے تحت 82 فیصد وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر ہوتی ہے، نادانستہ طور پر صوبوں کو زیادہ آبادی بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے، اگر کوئی صوبہ اپنی آبادی کی شرح کو کم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو این ایف سی میں اس کا حصہ کم ہو جاتا ہے، زیادہ آبادی والے صوبے کو زیادہ فنڈز ملتے ہیں، اس لیے این ایف سی فارمولے کا صرف 50 فیصد حصہ آبادی سے منسلک ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 67 لاکھ بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی جاتی ہے، اگر فیملی پلاننگ تک وسیع رسائی فراہم کی جائے تو سالانہ آبادی کے اضافے میں تقریباً 15 لاکھ افراد کی کمی کی جا سکتی ہے، پیدائش کی بلند شرح کی ایک وجہ مانع حمل مصنوعات کی محدود دستیابی تھی، تاہم اب ان مصنوعات پر ٹیکس چھوٹ دے دی گئی ہے، اس پر کمیٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ کیا 18ویں آئینی ترمیم کے بعد آبادی کی بہبود صوبوں کو منتقل شدہ موضوع ہے؟ وزیر صحت نے تصدیق کی کہ یہ موضوع صوبوں کو منتقل ہو چکا، قانون سازوں نے مشاہدہ کیا کہ منتقلی کے بعد وفاقی فیصلے صوبائی حکومتوں پر مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ وزارت قانون کے نمائندوں نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ پارلیمنٹ ان معاملات پر قانون سازی نہیں کرسکتی جو خصوصی طور پر صوبوں کو منتقل کیے جا چکے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کے نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے اقدامات پر کوئی فرقہ وارانہ اختلاف نہیں ہے، کمیٹی نے وزارت قانون، مذہبی اسکالرز اور متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں کو اتفاقِ رائے پر مبنی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے مشاورت کی ہدایت کی ہے۔






