کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے وڈھ میں ہندو تاجر ،خاران میں عبدالخالق بلوچ اور عبدالرشید کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلو چستان میں ایک بار پھر قتل وغارت گیری کا بازار گرم اور روزانہ مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں مختلف ناموں سے مظلوم وبے گناہ لوگوں کی قتل عام جاری ہے جبکہ کمشنر ،ڈپٹی کمشنراور اسسٹنٹ کمشنر کے اختیارات نہیں ہیں انتظامیہ اور ادارے مکمل طور پر مفلوج ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان سوشل میڈیا پر ترقی کی راہ پر گامزن ہے ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیںبےساکیوں پر کھڑی نا اہل حکومت کو عوام پر مسلط کر لیا گیا ہے ایک منتخب ایم پی اے سے ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ کو تین گناہ زیادہ فنڈز دیئے گئے ہیں ورکرزسے لیکر قائدین تک سب اپنی جانوں کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں لیکن صوبائی کی عوام کے حقوق پرکسی صورت سودے بازی نہیں کرنے دینگے اور نہ ہی کسی دباﺅ میں آئیں گے اگر ایک ہفتے میں حالات ٹھیک نہ ہوئے تو احتجاج تحریک شروع کرینگے ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ،رکن صوبائی اسمبلی میر اکبر مینگل نے پارٹی کے دیگر رہنماﺅںپارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی،موسیٰ بلوچ،اراکین صوبائی اسمبلی ثناءبلوچ،ٹائٹس جانسن،غلام نبی مری،ٹکری شفقت لانگو،اور منیر جالب بلوچ کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ بلو چستان میں ایک بار پھر قتل وغارت گیری کا بازار گرم کر دیا گیا ہے ہر دوسرے دن بلوچستان کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں مختلف ناموں سے مظلوم وبے گناہ لوگوں کی قتل عام جاری ہے صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان سوشل میڈیا پر ترقی کی راہ پر گامزن ہے حالانکہ حکومتی نا اہلی کی وجہ اور سہولیات کی فقدان سے لوگ کورونا سے مررہے ہیں 18جولائی کو وڈھ بازار میں دن دیہاڑے ہندو تاجرنانک رام چند کو قتل کر دیا گیا قاتلوں نے نہ تو چہرے چھپائے تھے اور نہ ہی ان میں کسی کا ڈر تھا اس کے علاوہ خاران میں بلوچستان یونیورسٹی کے سابق پروفیسر عبدالخالق بلوچ اور عبدالرشید کو کھیتی باڑی سے واپسی پر ان کی گاڑی میں قتل کیا گیا کئی روز گزرنے کے باجود انتظامیہ ایف آر درج کرنے سے انکاری ہے انتظامیہ قاتلوں کو پہچاننے کے باوجود گرفتار نہیں کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بی این پی کے رہنماءشفیق الرحمان کو دھمکیاں دی جارہی تھی ا ور ان کے گھر کفن پھینکا گیا تھا اس پر بھی حکومت نے کوئی اقدام نہیں اٹھا یا حکومت انتظامیہ پر ذمہ داری ڈال رہی ہے جبکہ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ملزمان با اثر ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے سے ہی بلوچستان میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے اور امن وامان کی صورتحال گھمبیر ہے مگر اس پر حکومت خاموش ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ حکومت اور اس کے سربراہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں ایسے حالات سازش کے تحت بنائے گئے کہ لوگوں کے اصل مسائل کو پس پشت ڈالا جائے انتظامیہ اور ادارے مکمل طور پر مفلوج ہے کمشنر ،ڈپٹی کمشنراور اسسٹنٹ کمشنر کے اختیارات نہیں ہیں خدشہ ہے کہ ایسی صورتحال میں خانہ جنگی پیدا ہو ں حکومت میں بیٹھے حکمران صرف کرپشن اور لوٹ مار کیلئے بیٹھے ہیں یا پھر بندوق کے زور پر بٹھا یا گیا ہے انہوں نے کہا کہ بےساکیوں پر کھڑی نا اہل حکومت کو عوام پر مسلط کر لیا گیا ہے صوبے کے مسائل پر بارہا ہم نے آوازبلند کی ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس نااہل ٹولے کو مسلط کر نے والے یہ بات ذہن نشین کریں کہ ان نا اہل لوگوں سے حکومت نہیں چلا یا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ روز اول سے ہمیں کہا جارہا تھا کہ ہم صوبائی حکومت کا حصہ بن جائیں لیکن ہم یہ واضح کرتے چلے کہ ہم کسی صورت اس نا اہل وکرپٹ ٹولے کا حصہ نہیں بنیں گے ورکرزسے لیکر قائدین تک سب اپنی جانوں کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں لیکن صوبائی کی عوام کے حقوق پرکسی صورت سودے بازی نہیں کرنے دینگے اور نہ ہی کسی دباﺅ میں آئیں گے ہمارے ارادے مضبوط ہیں ہم لالچی ہیں نہ ہی بوٹ پالش ہیں ہم اس مٹی اور یہاں کے دستار کے وارث ہیں وفاق میں شمولیت ہم نے اپنے چھ نکات میں شامل مسائل کے حل کے شرائط پر کیا تھا انہوں نے کہا کہ 22سے 30ہزار تک صوبے کے پوسٹوں پر جعلی ڈومیسائل کی تعیناتی گوادر سے متعلق قانون سازی اور صوبے میں لاقانونیت کا خاتمہ ہمارے چھ نکات کا حصہ تھا حکومت میں شامل لوگوں کو بندوق کے زور پر بٹھا یاگیا ہے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہفتے میں حالات ٹھیک نہ ہوئے تو بی این پی اپنے دیگر حقیقی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر ایک بہت بڑا احتجاجی تحریک شروع کریگا اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی اکبر مینگل نے کہا کہ ایک بار پھر ڈیتھ اسکواڈ کو فعال کر کے لوگوں سے بھتہ وصول کیا جارہا ہے اس بارے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو آگاہ کیا لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی انہوں نے کہا کہ وفاق سے علیحدگی کے بعد ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہم دوبار ہ وفاق میں شامل ہوں لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عوام سے خلوص کا اندازہ اس بات سے لگا یاجاسکتا ہے کہ ایک منتخب ایم پی اے سے ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ کو تین گناہ زیادہ فنڈز دیئے گئے ہیں ۔
