قائمہ کمیٹی کا حفیظ شیخ کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کا اعلان

قائمہ کمیٹی کا حفیظ شیخ کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کا اعلان

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد :قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے متعلق کسٹمز کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شرکت نہ کرنے پر مشیرخزانہ حفیظ شیخ کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنے کا اعلان کردیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس فیض اللہ کاموکا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین جاوید غنی نے بتایا کہ طورخم باڈر سے 441 ٹرک کسٹم کلئیرنس کے بغیر داخل ہوئے۔جاوید غنی نے بریفنگ میں کہا کہ اس اسکینڈل میں کسٹمز ڈپارٹمنٹ کے انسپکٹر، پرنسپل آپریزر، سپرینٹنڈنٹ، گیٹ کیپراورڈرائیورز ملوث ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 328 گاڑیاں کسٹمز سے کلئیر ہو کر داخل ہوئیں جبکہ 113گاڑیاں اور900 پِک اپ بھی اسی طرح کسٹمز کلئیرنس کے بغیر داخل ہوئیں، ٹرکوں میں خشک میوہ جات، پھل سبزیاں شامل تھیں۔انہوںنے کہاکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کیس کی تحقیقات کے لیےایف آئی اے کو بھی لکھا گیا لیکن جواب نہیں آیا-قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے تحقیقات کے حوالے سے ایف بی آر کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے اور آئی بی حکام کو طلب کر لیا-چیئرمین ایف بی آر نے اس موقع پر کہا کہ اس معاملے کی ایک ماہ میں انکوائری رپورٹ پیش کر دیں گے اورملوث افراد کے خلاف ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی-انہوں نے کہا کہ ایران اور افغان سرحد پر کورونا وائرس کے خلاف نافذ ایس او پیز کو نرم کیا جائے، افغانستان کی درخواست پر سامان بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن بھارت کا سامان افغان ٹرکوں پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی-اس موقع پر کمیٹی کی رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہا کہ افغانستان کو سامان بھارت سے بھجوانے کی اجازت دینے سے ہمارے کاشت کاروں کو نقصان پہنچے گا-نفیسہ شاہ نے کہا کہ قومی نوعیت کے بل التواءکا شکار ہیں لیکن مشیر خزانہ حفیظ شیخ خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے-انہوں نے کہا کہ بطور رکن پارلیمنٹ میرا استحقاق مجروح ہورہا ہے، اس لیے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرنا چاہتی ہوں۔اجلاس میں شریک پی ٹی آئی اراکین نے بھی مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے خلاف تحریک استحقاق کی حمایت کی-پی ٹی آئی اراکین آفتاب صدیقی اورجمیل احمد نے کہا کہ اس معاملے پر نفیسہ شاہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور مشیر خزانہ کو آخری خط لکھا جائے-چیئرمین کمیٹی فیض اللہ کاموکا نے کہا کہ اگر مشیر خزانہ رضا مندی ظاہر نہیں کرتے ہیں تو پھر تحریک استحقاق پیش کی جائے گی۔چیئرمین کمیٹی نے نیشنل بینک اوراسٹیٹ بینک کی طرف سے اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں صدر نیشنل بینک بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ اور بھرتی کا معیار پیش کریں۔ادارہ شماریات نے مالی سال 2020-2019 کے پہلے گیار ماہ کا بڑی صنعتوں کی ترقی کا ڈیٹا جاری کردیا-اعداد وشمار کے مطابق مالی سال2020-2019 کے پہلے گیارہ ماہ جولائی تا مئی کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 10.32 فیصد اور سالانہ بنیاد پر مئی میں 24.8 کمی ہوئی جبکہ ماہانہ بنیاد پر مئی میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 20.5 فیصد اضافہ ہوا۔ادارہ شماریات کے مطابق جولائی سے مئی کے دوران آئرن اور اسٹیل کے شعبے میں پیداوار17.02فیصد، الیکٹرونکس 25.63 فیصد، ادویات کے شعبے میں 4.39 فیصد، کوک، پیٹرولیم کے شعبے میں20.87 فیصد، مشروبات کی پیداوار میں 3.76 فیصد اور آٹو موبائل سیکٹر کی پیداوار میں 44.79 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔دوسرے جانب فرٹیلائزر کے شعبے میں پیداوار میں 5.64 فیصد اضافہ ہوا-ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیاد پر مئی 2020 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 24.80 فیصد کمی ہوئی جبکہ ماہانہ بنیاد پر مئی 2020 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 20.50 اضافہ ریکارڈ کیا گیا-مئی2020 میں سالانہ بنیاد پرالیکٹرونکس مصنوعات کی پیداوار میں 81.60 فیصد کمی ہوئی، اسی طرح لکڑی کی مصنوعات کی پیداوار میں 89.57 فیصد، ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداوار 30.45 فیصد اور آٹو موبیل کی پیداوار میں 79.02 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی-تازہ اعداد و شمار کے مطابق مئی میں سالانہ بنیاد پر انجنئیرنگ مصنوعات کی پیداوار میں 66.35 فیصد کمی واقع ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!