کوئٹہ ( پ ر ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے اپنے جاری کردہ بیان میں حکومت وقت سے مطالبہ کیاہے کہ مویشی مالکان ،بیوپاریوں کے ساتھ عید الضحی کی مناسبت سے معاملات کو صبر وتحمل اورافہام وتفہیم سے نمٹایاجائے ایسی صورتحال میں جب سال میں ایک مرتبہ آتے ہیں اور مال مویشی بیچتے ہیں ایسی صورتحال میں حکومت نہ صرف کورونا سے بچانے کیلئے موثراقدامات بلکہ بیوپاریوں کی مشکلات کومدنظررکھتے ہوئے اقدامات کریں،انہوں نے کہاکہ سال میں ایک بارصوبے بھر کے بیوپاری عید الضحی کے موقع پر کوئٹہ کارخ کرتے ہیں اور سال بھر اپنی کمائی مویشیوں کے پالنے پر خرچ کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بیوپاریوں کیلئے موثر انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف بیوپاریوں بلکہ عام لوگوں کوبھی مشکلات کاسامنا کرناپڑرہاہے ،انہوں نے کہاکہ دو دن قبل انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے مویشی منڈی میں کیمپ لگایا اس شدید گرمی میں دن بھر دھوپ میں گھومنے والوں کی ٹمپریچر بڑھ جاتاہے لیکن ایسی صورتحال میں جب وہ معاشی بدحالی سے بچنے کیلئے یہاں آتے ہیں اور پھر اسکریننگ کے بعد انہیں مال مویشی کی طرح ایک جگہ ڈال دینا ،ان سے بدترسلوک روا رکھنا اورانہیں تشدد کانشانہ بناناباعث افسوس ہے ،انہوں نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں معاملات گھمبیر ہوگئے ہیں لیکن انتظامیہ اور حکومت کو چاہیے کہ ان کی مشکلات کو مدنظررکھتے ہوئے اقدامات اٹھائیں ویسے بھی کورونا وائرس کی وجہ سے غریب عوام کی معاشی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے ایسے میں عید قرباں کے موقع پر ان کی خوشیاں ماند ہونے سے بچانے کیلئے حکومت وقت کو صبر وتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کوکنٹرول کرناچاہیے تاکہ حکومت کورونا کی وبا کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ بیوپاریوں اور مویشی مالکان کو مشکلات کاسامنا نہ ہو،دوسری جانب ایسی صورتحال میں جب لوگ مشکلات سے دوچار ہو پولیس کی جانب سے ناروا رویہ اختیارکرکے انہیں گرفتار تشدد کانشانہ بنانا جمہوری ،اخلاقی اور انسانی دائرے سے باہر ہے ،اگر مویشی منڈیاں لگانے کیلئے مناسب انتظامات نہ ہو تو پھر شہر میں گلی گلی مویشی منڈی لگے گی جس سے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا زیادہ خطرہ ہے بلکہ کانگو کے پھیلاﺅ کا بھی باعث بنے گا،بلوچستان کے لوگ پہلے سے ہی مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔انہوں نے مطالبہ گزشتہ دنوں مشرقی بائی پاس میں پیش آنے والے واقعہ کی تحقیقات کرکے اصل محرکات کو عوام کے سامنے لایاجائے اور بیوپاریوںاور مویشی مالکان میں پایاجانے والا خوف وہراس اور بے چینی وبے یقینی کو دور کیاجائے ۔
