کراچی :صوبائی وزراءسعید غنی، سید ناصر حسین شاہ اور امتیاز شیخ نے کہا ہے کہ پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لئے بنائی کمیٹی صرف ایک ڈرامہ ہے۔ فوری طور پر پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو ہٹایا جائے اور ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کمیشن تشکیل دیا جائے۔ حادثہ میں اب تک جن شہداءکی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے، ان کے ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کرلئے گئے ہیں اور انشاءاللہ 10 روز کے اندر اندر تمام لاشیں ان کے ورثاءکے سپرد کردی جائیں گی۔ سندھ میں لاک ڈاﺅن کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی البتہ اشرافیہ جن میں ظفر مرزا، پنجاب اور کے پی کے کے وزراءاعلیٰ شامل ہیں وہ اب لاک ڈاﺅن کو سخت کرنے کی بات کررہے ہیں تو وزیر اعظم ان اشرافیہ کی باتوں پر کیا فیصلہ کرتے ہیں وہ دیکھ رہے ہیں۔ پی آئی اے میں 2008 میں پیپلز پارٹی نے کسی کو بھرتی نہیں کیا بلکہ ان کو ریگولائیزڈ کیا ہے، یہ بھرتیاں موموں مشرف کے دور میں ہوئی تھی۔ ٹڈی دل سے نقصانات کی مکمل ذمہ دار وفاقی حکومت ہے، کیونکہ انہوں نے وعدے کے باوجود اپریل میں ریگستانی علاقوں میں اسپرے نہیں کیا تھا۔ سندھ حکومت نے 28 کروڑ روپے کے فنڈز ٹڈی دل اسپرے کے لئے جاری کردئیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے منگل کے روز اپنے کیمپ آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تمام شہداءکے لواحقین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے سندھ حکومت کی اپنی لیبارٹری جو کہ انٹرنیشل لیول کی ہے وہاں لے لئے گئے ہیں اور آج رات سے ہی نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور انشاءاللہ آئندہ 10 روز میں تمام شہداءکی لاشیں ان کے ورثاءکے سپرد کردی جائیں گی۔ انہوںنے کہا کہ اس المناک حادثہ کے فوری بعد وزیر اعلیٰ سندھ اور سندھ کابینہ کے ارکان جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے اور ساتھ ہی ہم پاک فوج، رینجرز، پولیس، ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور علاقہ عوام کے بھی مشکور ہیں کہ انہوںنے فوری طور پر امدادی کارروائیوں کو سرانجام دینا شروع کیا۔ انہوںنے کہا کہ ہم ایدھی اور چھیپا ویلفئیرز کے بھی مشکور ہیں کہ انہوںنے شہداءاور زخمیوں کو اسپتالوں تک پہنچایا۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اس سانحہ میں تین خواتین کو اس علاقے میں گھروں میں کام کرتی ہیں اس حوالے پر سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ ان کی کوئی امداد اور علاج معالجہ نہیں کرایا جارہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ سانحہ کے چند گھنٹوں کے اندر اندر میں خود اور ناصر شاہ سول اسپتال برنس وارڈ میں زبیر نامی اس مسافر کے پاس پہنچیں جو اس طیارے میں زخمی ہوا اس کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ تین خواتین بھی یہاں لائی گئی ہیں لیکن ہم نے جان بوجھ کر خواتین ہونے کے باعث ان کی عیادت نہیں کی لیکن اسی وقت ہم نے ایم ایس، وہاں موجود ڈیوٹی ڈاکٹرز اور سیکرٹری صحت کو ہدایات دی تھی کہ ان خواتین کا مکمل علاج معالجہ کیا جائے۔ اس کے بعد خود ناصر حسین شاہ اور مرتضیٰ وہاب ان سے عید کے دوسرے روز ملیں ہیں اور نہ صرف ان کی امداد کی گئی بلکہ ان کے اہلخانہ کو بتایا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو ان کا علاج کسی بھی نجی اسپتال میں جہاں چاہیں ہم کروانے کو تیار ہیں۔ اس کے بعد اب سے کچھ دیر قبل میری خود ان خواتین کے اہلخانہ سے بات ہوئی ہیں انہوںنے برنس وارڈ میں علاج پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح کی سوشل میڈیا پر خبروں میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لئے چلائی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہم طیارہ حادثہ کے دیگر متاثرین کے اہلخانہ سے بھی ملیں ہیں لیکن ہم میڈیا ساتھ لے کر نہیں گئے جبکہ کچھ لوگ میڈیا سیشن کے لئے ان کے اہلخانہ کے پاس گئے اور انہوںنے خود بتایا ہے کہ ان کے باعث ان کو مزید مشکلات درپیش ہورہی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس سانحہ کے بعد انتہاہی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے جو کمیٹی بنائی گئی ہے، اس پر ہمیں شدید تحفظا ت ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس سانحہ کے بعد سے پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک کبھی جہاز سے پرندے ٹکرانے کی بات کرتے ہیں تو کبھی اس ماہر اور سنئیر پائلیٹ کو اس کا قصور وار ٹھرا رہے ہیں اور اگر انہوںنے فیصلہ کرلیا ہے تو پھر تحقیقاتی کمیٹی کا کیا کام باقی رہ جاتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مذکورہ تحقیقاتی کمیٹی ارشد ملک کے زیر انتظام کام کرنے والوں کی ہے اور اس وقت پی آئی اے میں ارشد ملک آمریت کی مثال بنے ہوئے ہیں اور ان کی آمرانہ فیصلوں نے یہاں کام کرنے والوں کو شدید خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر نئی تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے، جس میں پالیا، انٹرنیشنل پائلیٹ کے نمائندوں، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن اور ائیر بس کے ممبران کو شامل کیا جائے اور فوری طور پر پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو معطل کیا جائے تاکہ وہ اس تحقیقاتی کمیٹی پر اثر انداز نہ ہوں۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم مکمل طور پر اس سانحہ کے ذمہ دار ارشد ملک اور سول ایوی ایشن کے سربراہ کو قرار دیتے ہیں۔ اس لئے اس سانحہ کی صاف اور شفاف اور اوپن انکوائیری ہونے چاہیے۔ ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ بے شک تحقیقاتی کمیٹی اس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کنٹونمینٹ اور ایوی ایشن کو بھی شامل تفتیش کرے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ارشد ملک اس پورے سانحہ کا ملبہ اس پائلیٹ کے سر ڈالنے کی سازش کررہے ہیں، جو ایک سنئیر پائلیٹ تھا اور حادثہ سے کچھ لمحات قبل بھی اس کی آواز میں کسی قسم کی گھبراہٹ شامل نہیں تھی۔ ایک سوال کے جواب میں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لاک ڈاﺅن کا سوال ہے وہ رہے گا لیکن کسی قسم کا کوئی کرفیو نہیں لگایا جارہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نے خود کہا تھا کہ اشرافیہ نے لاک ڈاﺅن لگایا ہے اور آج انہی اشرافیہ کے لوگ جس میں ظفر مرزا، وزیر اعلیٰ پنجاب اور خیبر پختونخواہ ایک بار پھر سخت لاک ڈاﺅن کی بات کررہے ہیں، اب وزیراعظم خود دیکھ لیں کہ کون سے اشرافیہ لاک ڈاﺅن کا کہہ رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سندھ میں کرونا وائرس کی وبا میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اس لئے ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ انتہاہی احتیاط کریں اور بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں۔ انہوںنے کہا کہ رمضان اور عید کے باعث لاک ڈاﺅن میں نرمی کا عوام نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اس وقت صورتحال تشویش ناک ہورہی ہے اور اگر اب بھی احتیاط نہ کی گئی تو صحت کے حوالے سے شدید مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کے سوال پر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس کی مکمل ذمہ دار وفاقی حکومت اور خود وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ انہوںنے کہا کہ6 مارچ کو جب یہ ٹڈی دل صحرائی علاقوں میں تھا اس وقت ایک اجلاس ہوا، جس میں خود وزیر اعظم عمران خان اور صوبہ سندھ سے وزیر اعلیٰ سندھ ویڈیو کانفرنس پر تھے، جبکہ دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی اس اجلاس میں تھے، جس میں وزیر اعظم کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا گیا اور انہوںنے یقین دہانی کرائی کہ پہلی اپریل سے ان علاقوں میں فضائی اسپرے کا کام شروع کردیا جائے گا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ کیاگیا اور یہ ٹڈی دل صحرا سے نکل کر فصلوں تک پہنچ گئی ہے اور اب کی لپیٹ میں صوبہ سندھ اور پنجاب کی فصلیں آگئی ہیں لیکن ابھی بھی وفاقی سطح پر کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں البتہ سندھ حکومت نے وسائل نہ ہونے اور موجودہ حالات کے پیش نظر بھی 28 کروڑ روپے کے خصوصی فنڈز جاری کردئیے ہیں تاکہ اسپرے کیا جاسکے۔ ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ سندھ حکومت ٹڈی دل کے حوالے سے اپنی ذمہ داری مکمل طور پر سرانجام دے گی۔
