کابل: افغانستان میں لویا جرگاکے نام سے مشہور افغان مشاورتی ادارہ کے اجلاس میں خواتین پر تشدد کا مشاہدہ کیا گیا جس کا بہ ظاہر سبب صدر پر تنقید بتائی جاتی ہے۔ جرگے میں ہونے والی دھینگا مشتی کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ممبر پارلیمنٹ بلقیس روشن نے جرگے میں کابل کے تہران اور طالبان کے ساتھ تعلقات پر صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس نے اجلاس میں ایک پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ طالبان کو رائلٹی ادا نہ کرو۔ جرگے میں 3200 سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس جرگے کے انعقاد کا مقصد 400 طالبان قیدیوں کی قسمت کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا۔لیکن حیرت انگیز طور پر بلقیس روشن پر حملہ صدر کے احامیوں کی طرف سے نہیں بلکہ ایک اور خاتون کی طرف سے کیا گیا۔ خاتون نے صدر غنی پر تنقید کی پاداش میں بلقیس کو دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ اس واقعے کے بعد اجلاس میں مزید دھینگا مشتی ہوئی، ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اشرف غنی نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان کے آئین نے انہیں 400 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اختیار نہیں دیا تھا اور یہ کہ لویا جرگہ کو افغانستان میں قیام امن کی تیاریوں کے سلسلے میں اس بارے میں فیصلہ لینا چایئے۔






