جے یو آئی اور پشتونخوامیپ کو دوبارہ مشترکہ جدوجہد کی دعوت دیتا ہوں ‘ اصغر خان اچکزئی

جے یو آئی اور پشتونخوامیپ کو دوبارہ مشترکہ جدوجہد کی دعوت دیتا ہوں ‘ اصغر خان اچکزئی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

چمن :عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و صوبائی پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے سانحہ8اگست کے شہداکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بننے کے فورا بعد12اگست1948سے لے کر 30 جولائی 2020کے چمن واقعے تک پشتون شہداکے جنازے اٹھاتے آئے ہیں لیکن اس کے باوجود پشتونوں کے دل و دماغ میں ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ وطن کو آگ اور خون کے حوالے کیا جائے ہم اس وطن کو جنگ اور بدامنی سے نکال کر امن ، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں ،حکمران ہوش کے ناخن لیں ،یہ پروپیگنڈے بند کئے جائیں کہ پشتون شرپسند ہیں پشتون شر پسند نہیں امن پسند ہیں انہیں امن سے جینے دیں ،بندوق سے امن نہیں آتا ، امن کے لئے عدم تشدد ضروری ہے ، ہم نے پہلے بھی پشتونخوا میپ اور جے یوآئی کی قیادت کو مشترکہ جدوجہد کی دعوت دی ہے آج بھی انہیں دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور پشتون وطن کی ترقی اورخوشحالی کے لئے اپنا کردار ادا کریں ، بیانات ہم بھی دے سکتے ہیں لیکن ہم اجتماعیت کا سوچ کر چپ ہوجاتے ہیں کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم نے جنہیں بار بار کہا کہ آپ آئیں اور چمن کے اولسی دھرنے کا حصہ بنیں انہوں نے یہ بیان دے دیا کہ اس دھرنے کے پیچھے اور لوگ ہیں ، چمن سرحد آمدورفت کے لئے کھول دی جائے یہ ہمارے لئے مرگ و زیست کا مسئلہ ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے سانحہ8اگست2016کے شہداکی چوتھی برسی کے موقع پر چمن میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تعزیتی جلسہ عام سے ضلعی صدر خان محمد کاکڑ۔ اے این پی کے مرکزی رہنماءڈاکٹرصوفی اکبر کاکڑ۔ صوبائی پریس سیکریٹری اسد خان اچکزئی، ضلعی جنرل سیکریٹری جمیل پیرعلیزئی،تحصیل صدر منور خان اچکزئی ، محیب اللہ کاکڑ، محمد اسلم اچکزئی ،لغڑی اتحاد کے سیکریٹری امیرمحمد، تاج وطن دوست، عبدالصادق ناراض، گل گلالئی ، محمد داود اچکزئی، عبدالرحمان بادیزئی ،اور مولوی اختر محمد نے بھی خطاب کیا۔انہوںنے سانحہ 8اگست2016کے شہداکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شہداکی چوتھی برس پر ہم نے یہ جلسہ عام کوئٹہ میں کرنا تھالیکن افسوس کہ اب ہمیں اپنے شہداکی یاد منانے بھی نہیں دیا جاتاپشتونوں کو آگ اورخون میں نہلانے کا سلسلہ کافی پرانا ہے آٹھ اگست کا واقعہ ہو یا پھر 30جولائی کو پرلت کے شہدا، بارہ اگست 1948جب ملک کو قائم ہوئے ایک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا بابڑہ میں باچاخان کو سینکڑوں پشتونوں کے جنازے دیئے گئے ،23اگست کے شہداہوں یا پھر کچلاک کے شہدا، ٹکر کے شہداسال کے 365دنوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں جو کسی پشتون شہید کی یوم شہادت نہ ہو ہم نے گزشتہ ستر سالوں میں بے شمار جنازے اٹھائے ، الزامات سہے ، قیدو بند کی صعوبتیں مشکلات برداشت کیں لیکن ہم آج بھی اپنے موقف اور اپنی جگہ پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں ہم اپنے وطن کو امن اور ترقی اور خوشحالی کا مرکز بنانا چاہتے ہیں ہمیں بندوق سے نفرت ہے ہم پرامن زندگی چاہتے ہیں کسی کی گولی اور طاقت پشتونوں کو اپنے حقوق کی جدوجہد سے دستبردار نہیں کرسکتی ہم پشتون وطن کوجنگ اوربدامنی سے نکالنا چاہتے ہیں اقتدار ہمارے ذہن اور وہم و گمان میں بھی نہیں ہم چاہتے ہیں کہ مزید خواتین بیواہ نہ ہوں، بچے یتیم نہ ہوں ہم ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں ۔ مشکلات ہیں ، قبائلی تنازعات ہیں ، پشتونوں کے آپسی اختلافات ہیں اور دوسری طرف پشتونوں کے دشمن جن کی کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح پشتونوں کو شرپسند ثابت کریں انہوںن ے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علمااسلام کی قیادت کو پشتون قومی مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ خدا کے لئے آپسی اختلافات ، زئی خیلی اور گروہ بندی سے بالاتر ہو کر پشتون وطن کی ترقی اورخوشحالی کے لئے مشترکہ کردار ادا کریں عرصہ دراز سے پشتونوں کے خلاف جاری سازشی منصوبے اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں ہم نے بار بار آپ کو پیغام بھجوایا کہ آپ آئیں ہمارے ساتھ چمن دھرنے کا حصہ بنیں آپ خود آئے بھی نہیں اور الٹا یہ بیان بھی دے دیا کہ اس دھرنے کے پیچھے کوئی اور لوگ ہیں ؟ اور لوگ سے آپ کی مراد کیا ہے ؟ آئیں بیٹھیں اور لائحہ عمل طے کریں کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے کیا مشترکہ جدوجہد ہونی چاہئے ہم پشتو اور افغانیت کے دائر ے سے باہر کوئی کام نہیں کریں گے دشمن کی سازشوں کی سمجھیں اگر اب بھی ہم نے بطور قوم اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ نہیں کیا تو پھر آٹھ اگست جیسے سانحات جنم لیتے رہیں گے پشتون خواتین بیوہ ہوتی رہیں گی اور پشتونوں کے بچے یتیم ہوتے رہیں گے ہمیں ایک دوسرے کے گریبانوں سے ہاتھ نکالنے ہوں گے آئیں سیاست اپنی جگہ لیکن کم از کم اس وطن کے مشترکہ خوشی اورغم کی خاطر سیاست سے بالاتر ہو کر کام کریں انہوںنے کہا کہ باچاخان کی زندگی اور باچاخان کی موت میں ہمارے لئے پیغام ہے ہم صرف پرامن زندگی چاہتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ آپ ہمیں انسان کی نظر سے دیکھیں ، مسلمان کی نظر سے دیکھیں ۔ ا نہوںنے چمن بارڈر کی بندش اور عید سے دو دن سرحد پر پیش آنے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ سب سے پہلی تفتیش اس بات کی ہونی چاہئے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اعلان کیا کہ آپ آجائیں دو دن سرحد کھلی ہوگی کراچی سے لا ہور ، کوئٹہ اور قندھار سے کابل اور ہرات تک سرحدکے دونوں اطراف ہزاروں لوگ آکر بیٹھ گئے کہ ہمیں جانے دیا جائے گاعین وقت پر آپ نے کہانہیں ہم سرحد نہیں کھولیں گے یہ وہ سرحد ہے جس کے حوالے سے یہ بات طے شدہ ہے کہ یہاں دونوں ممالک کی حکومتیں نہیں بلکہ یہاں دونوں طرف مقیم قبائل اپنے فیصلے کریں گے آپ کی حالت تو یہ ہے کہ لوگ آج آپ کا مذاق اڑارہے ہیں کہ آپ کشمیر کو گانوں سے آزاد کررہے ہیں دشمن حیران ہیں کہ جنگ کریں یا ڈانس کریں سیالکوٹ پر فائر ہو تو فواد چوہدری اٹھ کر کہتا ہے کہ ہم ایک ہیں اور یہاں چالیس سالوں سے ایک نام دوسرے نام سے ہمارے وطن پر تباہی و بربادی کے منصوبے جاری ہیں ہمیں اپنے مسلمان پشتون بھائیوں سے سلام دعا کرنے سے منع کیا جارہا ہے جبکہ ہمارے قبائل کے آپس میں خونی رشتے ہیں ہماری آدھی زمینیں اور جائیداد سرحد کی ایک طرف آدھی دوسری طرف ہے چھ مہینوں سے سرحد بند ہے ہم نے اس دوران ہر دروازہ کھٹکھٹایا آپ کے اس ایک فیصلے سے چالیس سے پچاس ہزار لوگ بے روزگار ہوجائیں گے یہ لوگ کہاں جائیں چمن تو وہ شہر تھا جہاںآ پ کو جس تقریب میں جتنے لوگ چاہئے ہوتے آپ اپنے دوستوں کو بلا لیتے آج آپ نے اپنے دوستوں کو کس مقام پر لاکھڑا کیا ہے ؟کل تک ہم سرحد کھولنے کی بات کررہے تھے آج آپ کے غلط اقدام کی وجہ سے ہم دیگر مطالبات کو بھول کر اپنے شہداکی بات کررہے ہیں آپ کے ایک غلط فیصلے سے دو ممالک کے درمیان جنگ ہوئی اس کا جواب کون دے گاآپ ثابت کریں کہ چمن کے لوگوں نے کبھی شرپسندی کی ہو یہ پرامن لوگ ہیں ایک بھی امپورٹر یا ایکسپورٹر ثابت کرے کہ چمن کے لوگوں نے ان کے مال کو نقصان پہنچایا ہے ۔مقررین نے 8اگست کے شہداکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سانحہ8اگست پر قائم قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جائے انہوںنے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے چھ مہینے کوئٹہ میں بیٹھ کر ایک بات کا جائزہ لیا تفتیش مکمل کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی اورپھر سفارشات مرتب کیں لیکن اس پر عمل کرنے کی بجائے اس وقت کی صوبائی حکومت جس کے صوبے میں ڈکٹر مالک اور مرکز میں نواز شریف سربراہ تھے انہوںنے کمیشن کی رپورٹ پر عمل کرنے کی بجائے الٹا اس کے خلاف کیس کردیا انہوںنے کہا کہ 8اگست صوبے کی تاریخ کا بد ترین واقعہ تھا جس میں ہمارے انتہائی قبل اور پڑھے لکھے لوگ ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھین لئے گئے ہمیں اپنے شہداکی قربانیوں کو فراموش کرنے کی بجائے ان کی نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر شہداکے درجات کی بلندی کے لئے دعا بھی ہوئی اور لنگر بھی تقسیم کیاگیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!