وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا ہے کہ وزیراعظم کی ملک میں آٹے کی یکساں قیمت کے تعین کا طریقہ کار مرتب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ غریبوں کے بارے میں سوچا جبکہ ماضی میں اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا گیا۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری حکومت کو مہنگائی کا چیلنج درپیش ہے، وزیراعظم ہر ہفتے پرائس کنٹرول کمیٹی کی میٹنگ کرتے ہیں جس میں تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور متعلقہ افسران شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زیرصدارت آج مہنگائی سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اشیا کی قیمتوں میں کمی تو آئی ہے لیکن وزیراعظم کے ہدف پر پورا نہیں اترتی، آٹے اور چینی کی قیمت انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ انتہائی مرغوب غذا ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 20 کلو کے آٹے کے تھیلے کی قیمت 900 سے ساڑھے 11 سو روپے کے درمیان ہے جبکہ پنجاب میں 20 کلو کے آٹے کے تھیلے کی قیمت 860 روپے ہے جبکہ کچھ جگہ پر آٹا 900 سے ساڑھے 9 روپے بھی مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 11 سو سے 12 سو بتائی جارہی تھی لیکن کراچی کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 14 سے 16 سو کے درمیان ہے جبکہ کچھ پر 17 روپے بھی ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ گندم جاری نہیں کررہی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں کے تعین میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ مثال کے طور پر پنجاب جو سب سے زیادہ آٹا فروخت کررہا ہے تو اگر ملک میں کہیں قیمتوں میں فرق ہوگا تو ان کا بہاؤ اس طرف ہوگا چاہے وہ خیبرپختونخوا ہو یا سندھ ہو۔ انہوں نے کہا کہ رحیم یار خان اور کچھ دیگر شہروں میں 12، 12 ملز ہیں جو ان کی طلب سے کئی گنا زیادہ ہے، قیمتوں میں زیادہ فرق سے خدشہ ہے کہ پنجاب کی مارکیٹ سے سامان اٹھا کر وہاں فروخت کیا جاتا ہے جہاں قیمت بہت زیادہ ہے جس سے پھر وہ بہت زیادہ منافع کمارہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قیمتوں میں 19، 20 کا فرق تو قابلِ قبول ہے لیکن اتنے بڑے فرق کو ختم کرنے کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس سے تمام صوبوں میں آٹے کی قیمتوں یکساں ہوں۔ شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم نے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، علیم خان اور متعلقہ سیکریٹریز برائے خوراک کو قیمتوں میں فرق کے خاتمے کا میکانزم تیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس حوالے سے لیے جانے والے ٹھوس اقدامات سے ایک سے 2 روز میں آگاہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اور وزیراعظم عمران خان مسلسل اس چیز کو دیکھ رہے ہیں اور کم وقت میں کچھ بھی ہوجائے ان قیمتوں کو ہم نے کم کرنا ہے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ یہ غریب کا مسئلہ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مہنگائی کو کم سے کم کیا جائے۔ چینی کی قیمتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اچانک چینی کے اسٹاک میں اچانک کمی آئی تھی اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ طبقے جو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، ہمارا خدشہ ہے کہ یہ بحران پیدا کیا جارہا ہے، مجھے نہیں معلوم اس میں شوگر ملز یا شوگر کے تقسیم کار شامل ہیں یا نہیں کیونکہ وہ صرف 23 کے قریب ہیں۔ چینی کی درآمد سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ چینی سستی دے اور عالمی سطح پر آٹے اور چینی کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا کام اس مافیا کی کمر توڑنا ہے جس نے ذخیرہ اندوزی کی ہے اور قیمتوں کو بڑھاتے ہیں اور حکومت کا مقصد عوام کو سستی چینی اور آٹا فراہم کرنا ہے۔
