دالبندین نامہ نگار بلوچستان نیشنل پارٹی ڈسٹرکٹ چاغی کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری محمد بخش بلوچ نے اپنے ایک بیآن میں تربت کے نوجوان طالبعلم حیات بلوچ کی بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہیں کہ فورسز کؤ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کیلئے بھرتی کرکے انہیں تنخواہ دی جاتی ہیں مگر بلوچستان میں یکے بعد دیگرے بلوچ نوجوانوں کو چن چن کر بلاوجہ بغیر کسی جرم کے گولیاں مار کر شہید کردیئے جاتے ہیں جو کہ افسوسناک اور ناقابل برداشت عمل ہیں اس طرح کے واقعات سے بلوچستان کے لوگوں میں مزید نفرتیں جنم لیں گے بلوچ نوجوان پڑھ کر اپنے مستقبل کو سنوارنے کیلئے محنت کرتے ہیں تاکہ دنیا کے دیگر قوموں کا مقابلہ علم اور شعور سے دیا جائے مگر بدقسمتی سے بلوچستان کے نوجوان جب اپنے شعور پہ پہنچتے ہیں یا ڈگریاں حاصل کرتے ہیں تو انہیں گولیوں کا نشانہ بناکر انہیں قتل کردیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ حیات بلوچ جیسے قابل نوجوان کا قتل نہ صرف اسکے خاندان کے ساتھ ناانصافی ہوئی بلکہ بلوچستان کے ہر پڑھے لکھے نوجوان کے علم کا گلہ گھونٹ دیا گیا اس طرح کے مسلسل واقعات کو دیکھ کر بلوچستان کے نوجوان اب تعلیم جیسے مستقبل کے زیور کو خیرباد کہہ کر چھوڑ رہے ہیں تاکہ کل کے دن انکے ساتھ بھی ایسا واقع رونما نہ ہو انہوں نے کہا کہ حکومت وقت حیات بلوچ کے قتل میں ملوث اہلکار کے گرفتاری پر صرف اکتفاء نہ کریں بلکہ اصل چہروں کو بے نقاب کرکے بلوچ قوم کے اعتماد کو بحال کریں تاکہ کل کے دن کوئی دوسرا حیات بلوچ کسی اور فورس کے گولی کا نشانہ نہ بنیں
