لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے پارٹی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ وہ محرم کے بعد وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملاتے ہوئے جارحانہ سیاست کریں‘نواز شریف اس مقصد کے لیے جلد از جلد حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس (ایم پی سی) بلانا چاہتے ہیں، اگرچہ مرکزی دھارے میں شامل حزب اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یوآئی(ف) کا خیال ہے کہ وہ ایم پی سی کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) نے مبینہ طور پر نواز شریف کی اس خواہش کا پیپلز پارٹی اور جے یو آئی(ف) سے اظہار کیا ہے کہ وہ محرم کے بعد حکومت کو سخت وقت دینے کے لیے ”باہمی ایجنڈا“ تیار کرے.مسلم لیگ نون کے سربراہ کے قریبی ساتھی نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ نواز شریف کا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے جارحانہ انداز میں نمٹا جائے، اس مقصد کے لیے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو آنے والے دنوں میں کارکنوں کو متحرک کرنا ہو گا تاکہ وہ حزب اختلاف کے مشترکہ اقدام میں اپنا کردار ادا کر سکیں. نواز شریف گزشتہ سال نومبر سے اپنے علاج معالجے کے لیے لندن میں موجود ہیں مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ پارٹی قیادت کو (پاکستان میں) اس سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام(ف )کے سربراہ کے ساتھ ”مکمل تعاون“ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہے اور اس بار انہیں مایوس نہیں کرے گی.
پارٹی لیڈرنے اس سوال کا جواب دینے سے گریزکیا ہے کہ کیا نوازشریف وطن واپس آکر خود حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کریں گے ؟ انہوں نے سوال کو ٹالتے ہوئے کہا کہ وقت اور ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق نون لیگ اس کا فیصلہ کرئے گی‘جبکہ پارٹی کے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سنیئرراہنماءنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ”اردوپوائنٹ “کو بتایا کہ نوازشریف واپسی کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ وہ مریم نواز کو اپنی سیاسی جانشین بنانے کے لیے زور آزمائی کررہے ہیں انہوں نے تسلیم کیا کہ پارٹی کے اندر حمزہ شہبازاور مریم نواز کے گروپس ابھی تک موجود ہیں شہبازشریف کی ”ٹیم“حمزہ کو جبکہ نوازشریف کی ٹیم مریم کو سپورٹ کررہی ہے.
گزشتہ سال اکتوبر میں اسلام آباد میں دھرنے سے قبل ان کی پارٹی کو اکیلا چھوڑ دینے اور حال ہی میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت پر مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے خوش نہیں ہیں. جمعیت علماءاسلام (ف)مرکزی راہنمااور سابق سینیٹرحافظ حسین احمد نے ”اردوپوائنٹ“کے ایڈیٹر میاں محمد ندیم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت کے پارلیمان میں اپوزیشن کی دوبڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے بارے میں تحفظات ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا ہے مگر پارلیمان کے اندر حکومت کو ”ٹف ٹائم“دینے کی بات آتی ہے تو دونوں بڑی پارٹیاں اپنا وزن حکومتی جماعت کے پلڑے ڈال دیتی ہے.
ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ختم نہیں ہوئی بلکہ عارضی تعطل کا شکار ہوئی ہمیں اپنی طاقت منوانے کے لیے متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنا ہوگا اور یہ بات میں نے اپنی پارٹی قیادت کو بھی واضح القاظ میں کہی ہے کہ مذہبی جماعتوں کی طاقت کو جس مقصد کے لیے اکھٹا کیا گیا تھا وہ منزل ابھی حاصل نہیں ہوئی لہذا ہمیں ایم ایم اے کو بحال کرنا چاہیے توقع ہے کہ محرم کے بعد متحدہ مجلس کا اجلاس بھی بلالیا جائے.
انہوں نے کہا کہ میرے علم میں ہے کہ مذہبی جماعتوں کے سربراہان کی سطح پر نہ صرف رابطے جاری ہیں بلکہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی پر بھی بڑی سنجیدگی سے بات چیت جاری ہے. دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ کوشش ہو رہی ہے کہ کثیر الجماعتی اجلاس منعقد کیا جائے اور رہبر کمیٹی کا اجلاس اگلے ہفتے ہو گا جس میں ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے گی.
انہوں نے کہا کہ جو بھی فیصلہ لینا ہوگا وہ ایم پی سی کے پلیٹ فارم پر لیا جائے گا کیونکہ نون لیگ ہر محاذ پر حکومت کی ناکامی کے تناظر میں تازہ انتخابات کے لیے کوشاں ہے مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ نے بتایا کہ حزب اختلاف جلد ہی ایم پی سی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوکر محرم کے بعد ”جارحانہ“ سیاست کرنے پر راضی ہوجائے گی، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دو سال بیت چکے ہیں اور اس کی مکمل ناکامی اس بات کی متقاضی ہے کہ حزب اختلاف اسے مزید وقت نہ دے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو متحرک کردیا گیا ہے اور وہ قیادت کی ایک کال پر سڑکوں پر نکل آئیں گے.
ایم پی سی کے اجتماع کے انعقاد میں درپیش مسائل کے بارے میں پوچھے جانے پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اتنا زیادہ مسائل نہیں ہیں، حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کے ساتھ آل پارٹیز کانفرنس کے سلسلے میں رابطے میں ہیں اور جلد ہی اس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دیں گے‘مولانا فضل الرحمان کے تحفظات کے حوالے سے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا احتجاجی مہم وہیں سے شروع کرنا چاہتے ہیں جہاں انہوں نے نومبر میں چھوڑی تھی‘کہا جاتا ہے کہ مولانا فضل نے اس یقین دہانی پراسلام آباد دھرنا ختم کردیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان مارچ 2020 تک استعفی دے دیں گے انہوں نے کہا کہ نون لیگ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے تحفظات کو دور کرئے گی‘اتحادیوں کے درمیان چھوٹی موٹی ناراضگیاں چلتی رہتی ہیں.
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنے کارکنان کی جرات کو دیکھ کر خوش ہو رہی ہے کارکن پارٹی قیادت کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں ‘انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر جس اندازمیں پارٹی کارکنوں نے رد عمل ظاہر کیا اور احتجاج کیا کیونکہ ان کی قیادت ان کے درمیان موجود تھی‘انہوں نے بتایا کہ مریم نواز ممکنہ طور پر گرفتار پارٹی کارکنوں سے بھی ملاقات کریں گی.
مسلم لیگ ن کے کچھ سینئر راہنماﺅں نے شریف خاندان کے اراکین کے رائے ونڈ میں ساڑھے تین ہزار کنال سے زیادہ اراضی کے غیرقانونی قبضے کے ایک نئے کیس میں مریم نواز کی نیب میں طلبی کے پیچھے وزیر اعظم عمران خان کو قرار دیا‘انہیں لگتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے کارکنوں کے رد عمل سے ایک نئی تحریک حاصل کرلی ہے جہاں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے راہنماﺅں کو نیب کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے، ان کا خیال ہے کہ اس ”سخت رد عمل“ سے انہوں نے کچھ حلقوں کو پیغام بھیجا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکن سڑکوں پر پی ٹی آئی کی حکومت کی طاقت حاصل کرنے کے اہل ہیں تاہم پارلیمنٹ کے اندر نون لیگ کے انہی راہنماﺅں کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے.
ادھر حکمران جماعت تحریک انصاف پنجاب اور قومی اسمبلی میں نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے اراکین کی حمایت حاصل ہونے کے دعوﺅے کرتی رہتی ہے‘ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبشمنٹ نے بھی اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں جن کے تحت پیپلزپارٹی کو اندرون خانہ ریلیف دیا جارہا ہے پیپلزپارٹی کی قیادت کو کہا گیا ہے کہ وہ ثابت شدہ کیسوں کی رقوم اداکردیں جس پر آصف علی زرداری نے رضامندی ظاہر کی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف زیر سماعت ریفررنسزکو طول دیا جارہا ہے.
اسی طرح شریف خاندان کے ایک ”گارنٹر“ قطر کے حکمران خاندان سے بھی حالیہ واقعات کی روشنی میں بات چیت کی گئی ہے بتایا جارہا ہے کہ قطر نے شریف خاندان سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے لہذا معاملات بیانات کانفرنسوں اور چھوٹے موٹے احتجاجی مظاہروں سے آگے نہیں بڑھیں گے کیونکہ فیس سیونگ اور سیاسی طور پر زندہ رہنے کے لیے نون لیگ ”محدود ایکٹویٹی“کی اجازت مانگی تھی جو انہیں دیدی گئی ہے.
