2018ءمیں مولانا فضل الرحمان کی بات نہ مان کر بڑی غلطی کی گئی ‘ سردار یعقوب ناصر

2018ءمیں مولانا فضل الرحمان کی بات نہ مان کر بڑی غلطی کی گئی ‘ سردار یعقوب ناصر

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

لورالائی: مسلم لیگ ن کے مرکزی سینئر نا ئب صدر سینٹ کے سیٹنڈنگ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کے چیئرمین سینیٹر سردار محمد یعقوب خان ناصر نے رمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان کے بعض تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن دوہزار اٹھارہ کے نتائج تسلیم کر کے مولانا فضل الرحمان کی بات نہیں مانی اور اسمبلی کا حلف اٹھا لیا جسکا آج میاں نواز شریف کو بھی غلطی کا احساس ہو گیا یہ حکومت غیر ائینی اور غیرجمہوری ہے جسے کسی صور ت تسلیم نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ اے پی سی کا جلد بلا رہے ہیں لیکن کھبی کوروناءعید قربان اور اب محرم آڑے ارہا ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ جلد اور فوری طور پر اجلاس طلب کیا جائے جسمیں حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کی جسکے انہوں نے کہا کہ حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہی ہے جسکی بھر پور مخالفت کرتے ہوئے حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے ہم یو ای اے کے اسرائیل سے ہونے والے معاہدے کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی امریکی سازش قرار دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں وہ صرف اپوزیشن کے خلاف جعلی کیسز بنا کر نیب کے زریعے ہمیں بلیک میل کررہی ہے ہم نے اپنے ادوار میں عوام اور ملک کی خدمت کی ہم پر ایک پیسے کی کرپشن کوئی بھی ثابت نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف نے ملک میں موٹرویز اورنج ٹرین اور سی پیک کے زریعے ملک کے کونے کونے میں اپس میں ملایا اور ملک ترقی کے جانب جارہا تھا لیکن ملک دشمن پارٹی نے ہمارے خلاف بے بنیاد دھرنے شروع کیئے جس سے ملک کی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی تھی اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اور الیکشن دو ہزار اٹھارہ میں ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت ہمیں ہرایا گیا جسکے نتائج آج قوم بھگت رہی ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم صرف برائے نام ہے اصل قوت کو کوئی اور ہے جسکے ہاتھ میں سب کچھ ہے اور وہی انتظام حکومت چلا رہے ہیںانہوں نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت بھی وفاق کے طرز پر اپوزیشن پارٹیوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے اپوزیشن کے حلقوں میں بے جا مدا خلت کر کے ترقیاتی فنڈز اپنے منظور نظر لوگوں کے زریعے استعمال کر رہی ہے میں اپوزیشن جماعتوں کے موقف اورجاری احتجاج کی مکمل حمایت کرتا ہوں حکومت ہر معاملے اور ترقیاتی امور میں اپوزیشن کو نظر انداز اور انکے حلقوں میں مداخلت کر رہی ہے اپوزیشن کے منتخب اراکین کو بھی اپنے عوام کی خدمت کیلئے انھیں فنڈز ملنے چاہیئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہماری کابینہ اور وزیر اعظم ایک پیج پر نہیں ہیں ہر کابینہ اجلاس کے بعد حکومتی ترجمانوں اور وزیروں و معاون خصوصی کے الگ بیانات تضادات پر مبنی سامنے آرہے ہیں اس سے عوام اور دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس پر سرے سے ہی حکومت کی کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے عوام کو بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں ملا لیکن اسکے باوجود حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ مناسب بجٹ ہے اس پر افسوس ہی کیا جسکتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحادی بھی اب حکومت سے نالاں نظر آرہے ہیں جے ڈبلیوپی اور بی این پی مینگل حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کا فیصلہ کر چکی ہیں جبکہ ایم کیو ایم بھی اتحاد سے الگ ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی نے غریب کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے آج حکومت خود ڈیلیور نہیں کر پارہی ہے نہ عوام کو دو سالوں میں پچاس لاکھ گھر ملے اور نہ ہی ایک کروڑ نوکریاں ملیں انہوں نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم عہدے سے الگ ہونا چاہتے ہیں لیکن لانے والے طاقتیں انھیں ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!