محمد سعید بلوچ نوشکی
چار سال قبل خیصار ندی میں نوشکی میں پانی کی گرتی ہو ئی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے 56کروڑ کی کیثر لاگت سے خیصار ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا متعلقہ محکمہ کے انجنیئرز اور علاقائی زمینداروں کی مشاورت سے ڈیم کی تعمیر کے لیے ساہیڈ کا انتخاب عمل میں لایا گیا ایک سال تک خیصار ڈیم کی تعمیر کا م ہوتا رہا 50فیصد کام کرنے کے بعد فنڈ کی عدم فراہمی کے باعث گزشتہ دوسالوں کے طویل عرصہ سے کام بند ہے یوں تو خیصارڈیم کی تعمیر ورلڈ بنیک کے تعمیراتی منصوبوں کا حصہ اور اسکی تعمیر کی بازگشت کئی سالوں سے سنائی دی جاری تھی خیصار ڈیم کی منظوری کے منظوری کا کریڈٹ لینے کے لیے سیاسی جماعتوں اس منصوبے کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش ضرور کی لیکن اب دوسال سے مذکورہ منصوبے پر فنڈ کی عدم فراہمی کی وجہ سے کام بند ہے تو سیاسی جماعتیں زمینداروں کی تنظیمیں عوامی نمائندے خاموشی اختیار کیے ہو ئے ہیں جو سوالیہ نشان ہے منتخب عوامی نمائندے اسمبلیوں میں آواز کیوں نہیں اٹھاتے ہیں بلوچستان میں کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ شروع کرانے سے پہلے حکومت بلوچستان کے عوام بڑے احسان جتانی ہیں ترقیاتی منصوبے بلوچستان کے عوام کا بنیاد حق ہیں حکومت کو بلوچستان کے ساتھ ہونے والے زیادتیوں اور ناانصافیوں کا ازالہ کرنے کے لیے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ گرانٹ دیں لیکن بدقسمتی سے بلوچستان کے نااہل حکمران سالانہ اربوں روپے سرپلس کرد دیتے ہیں جو بلوچستان کے غریب عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے مترادف ہے خیصار ڈیم کی تعمیر سے جہاں اس منصوبے کی لاگت میں مہنگائی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ ہو گا جو قومی دولت کا ضیاع ہے دوسری جانب تاخیر کے باعث پانی کی سطح مذید کم ہو گی جس سے زرعی شعبہ زیادہ متاثر ہو گا خیصار ڈیم کی تعمیر سے جہاں زیر زمین پانی کی سطح بہتر ہوگی دوسری جانب ایک صدی قبل بہنے والا جوئے نوشکی پانی کی روانی دوبارہ شروع ہو گی جوئے نوشکی دوکلو میٹر نوشکی شہر کے وسط سے گزرتی ہے جوئے نو
شکی میں پانی کی روانی سے آبنوشی کا مسئلہ حل ہو گا اور شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو گا خیصار ڈیم کی صورت میں شہریوں کو تفریحی کی بہتر سہولیات بھی میسر ہو نگی علاقے کے منتخب نمائندے خیصار ڈیم کے تعمیراتی منصوبے میں فنڈ کے عدم فراہمی کے خلاف سینٹ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں آواز اٹھائے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی زمداری بنتی ہیں کہ وہ فلاحی منصوبوں کی تکمیل کے لیے گرانٹ کی بروقت فراہمی اور منصوبوں کو مقررہ وقت مکمل کرنے کے لیے بہتر پلان بنائے تاکہ عوام کو منصوبوں کی تکمیل سے زیادہ فوائد حاصل ہو اس وقت چرمین سینٹ دو سینٹرز ایک رکن قومی اسبملی اور چار صوبائی اسمبلیوں کے ممبر ان کا تعلق رخشان ڈویژن سے ہیں رخشان ڈویژن قدرتی وسائل سے مالا مال اٹیمی دھماکوں کی سر زمین اور ایران اور افغان باڈر پر واقع ہو نے کے باوجود رخشان ڈویژن کے عوام 21ویں صدی میں بھی پستی اور پسماندگی کا شکار ہیں اگر اس دور میں بھی رخشان ڈویژن کے پسماندگی کے لیے پلاننگ نہ کی گئی تو پھر رخشان ڈویژن کے عوام کا مستقبل کھبی روشن نہیں ہو گا چرمین سینٹ میر محمد صادق سنجرانی کا کردار انتہائی اہميت کا حامل ہے-
