خاران(طارق رفیق بلوچ سے) سیاپاد اور مینگل قبائل نے اپنے معاملات کو بلوچی روایات کے مطابق حل کرکے علاقے میں رواداری کی ایک اور زندہ مثال قائم کیا۔ بلوچ قوم مزید تعصب تنگ نظری اور قبائلی مسائل کا متحمل نہیں ہوسکتا ان خیالات کا اظہار بی این پی کے مرکزی رہنما ایم پی اے خاران واجہ ثنابلوچ نے مینگل اور سیاپاد قبائل کے درمیان تصفیہ کے موقع پر قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ دونوں قبائل ہمارے لیے قابل قدر اور معتبر ہیں ۔نہیں چاہتے ہیں کہ زمین کے تنازعات پر لوگ خون خرابہ کی حد تک پہنچ جائے تصفیہ اور بلوچ میڑھ ہمارے تاریخی روایات کا حصہ ہے اس خیر اندیشی پر ہم واجہ ثنا بلوچ سردار زادہ منظور احمد مینگل حاجی محمد آسا سیاپاد اور خاص طور پر مینگل قبائل کے چئیرمین میر غلام دستگیر مینگل کی کوششیں قابل تحسین ہیں اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خاران عبدالسلام اچکزئی مولانا مفتی محمد قاسم مینگل قبائل کے چئیرمین غلام دستگیر مینگل نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ اس افراتفری کے دور میں خیرخواہ کم اور خامخواہ لوگ زیادہ ہیں عوامی مسائل کو حل کرنے میں ضلعی انتظامیہ دن رات اپنے عوام کی خدمت میں حاضر ہے انہوں نے کہا کہ سیاپاد قبائل نے انتہائی فہمیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مینگل قبائل کے پاس میڑھ کرکے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا انہوں نے کہا کہ ہم مینگل قبائل کے کمیٹی نے مختصر وقت میں چئیرمین غلام دستگیر مینگل کی سربرائی میں کئی خونی تنازعات حل کئے ہیں انہوں نے کہا کہ علاقے کے معتبرین نے ہمیشہ قبائلی مسائل کو خانگی فیصلوں کے زریعے حل کرکے لوگوں کو مزید دست وگریباں ہونے سے نجات دلایا ہے اس موقع پر حاجی محمد آسا سیاپاد ممتاز سیاپاد سرفراز سرگلزئی سردار فضل سمالانی مفتی عبدالغفار وائس چئیرمین میر مصطفی مینگل بابو عبدالخالق مینگل حاجی آغا ریکی سردار زادہ شہیک سیاپاد نعمت اللہ مینگل مولوی عنایت اللہ مینگل حاجی علی دوست مینگل امیر بخش سیاپاد حاجی خدانظر ملنگزئی حاجی غلام حسین مینگل سردار زادہ بہرام خان مینگل لعل محمد مینگل اور دیگر قبائلی عمائدین بھی موجود تھے
