برکت زیب سے : ہمارے ایک دوست نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ آخر ہم اس بات پر کیوں نہیں سوچ رہے ہیں ، کہ ایک طرف ٹڈی دل کے بہتات میں دن بدن اضافہ ہوتی جارہی ہے، تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں اور سیلاب کی شکل اختیار کئیے ہوئے ہیں، وجہ صرف یہ ہے کہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں پرندوں کا شکار کانام پر تیزی کے ساتھ نسل کشی ہورہی ہے، 90 فیصد تک قدرتی پرندے شکار کے نام پر ختم کئیے گئے ہیں، پہلے پرندوں کا تعداد لامحدود تھا، جب ٹڈی دل آتے تھے تو وہ راستے میں انہیں اپنا خوراک بناکر کھا لیتے تھے ، اس طرح ٹڈی دل کی اضافہ بڑھنے کے بجائے محدود ہوکر رہ جاتے، اب پرندے نہ ہونے کی برابر ہے، لوگ ٹڈیوں کے اضافے سے پریشان ہے، اور کھڑی فصلات تباہ ہورہے ہیں، حضرت انسان قدرتی سسٹم کو چھیڑ کر اپنے آپ پر ظلم کردی ہے، جسطرح انسانوں نے درختوں اور جنگلات کو بری طرح کاٹ کر بارشوں کا سسٹم متاثر کیاہے، ہمیں قدرتی چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ہر چیز کی پیدا ہونے اور افزائش نسل میں قدرت کی ایک حکمت بند ہے، لہذا ہمیں پرندوں کے شکار پر پابندی عائد کریں، تاکہ انکا افزائش نسل بڑھے، اور قدرت کے بنائے ہوئے ان رنگین ، خوبصورت اور قیمتی چیزوں کا قدر کریں، اللہ پاک ہم سب کو سوچنے اور سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائیں
