کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاﺅن اور تربت کے ڈھنگ میں پیش آنے والے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کی پیش بندی کیلئے پارٹی نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جے آئی ٹی قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مقتول کے ورثاءکو انصاف فراہم کرے،بی این پی کسی کو صوبے میں لسانی، قومی تفرقہ پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیگی،اے این پی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اپنی پوزیشن واضع کریں کہ وہ ظالم یا مظلوم کیساتھ ہیں ۔ پارٹی کیس قوم اور مسلک کےخلاف نہیں جس جگہ یہ واقعہ رونما ہوا ہے وہاں کے لوگوں کو اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرکے نفرتوں کو ابھارنے سے روکنے کی ضرور ت ہے ۔ ان خیالات کااظہار بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ، ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بدھ کے روز کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی، پارٹی کے ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، غلام نبی مری،قاری اختر شاہ کھرل ودیگر بھی موجود تھے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے ہزارہ ٹاﺅن میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس واقعے سے متعلق انتہائی حساس ہے ،ہزارہ ٹاون کے واقعے کے بعد ہونے والے واقعات میں ٹریفک پولیس اہلکار پر تشدد اور نوجوان کے قتل کی بھی مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مصائب،تکالیف برداشت کرنے کے بعد کوئٹہ کے حالات کسی حد تک بہتری کی جانب جارہے تھے تاہم دلخراش واقعے نے بلوچستان بھر بالخصوص کوئٹہ کے عوام کو ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی قیادت کا اجلاس گذشتہ روز ساراوان ہاﺅس میں منعقد ہوا جس میں واقعے سے پیدا ہونے والی تمام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کوئٹہ کو ایک بار پھر لسانی اور فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے سے محفوظ رکھنے کیلئے ہم دو قدم آگے بڑھیں گے تاکہ واقعے سے پیدا ہونے والی صورتحال کو معمول پر لایا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی وفد نے مقتول کے گھر جا کر ان کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کے حصول کیلئے پارٹی ان کے شانہ بشانہ ہوگی اُنہوں نے کہا کہ واقعہ انفرادی نوعیت کا ہے یا باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیے ہم کسی قوم اور مسلک کے خلاف نہیں تاہم جس جگہ یہ واقعہ رونما ہوا ہے وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرکے نفرتوں کو ابھارنے سے روکیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی بیرون ملک بیٹھے کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ کوئٹہ اور صوبے میں لسانی اور مذہبی منافرت کو ہوا دے۔ اُنہوں نے کہا کہ پانچ گھنٹے تک لوگوں پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا تاہم سیکورٹی ادارے خواب غفلت میں مبتلا رہے اور ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی جس سے سیکورٹی کی کارکردگی پر بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چالیس ارب روپے سیکورٹی کی مد میں خرچ ہورہے ہیں اور جگہ جگہ ناکوں پر شریف النفس لوگوں کو روک کر ان کی تلاشیاں لی جاتی ہیں اُنہوں نے کہا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی ہیڈ لائنس اور شہ سرخیوں میں ایسے مخصوص الفاظ کا چناﺅ نہ کریں جس سے نفرتوں میں اضافہ ہو۔اُنہوں نے تربت کے علاقے ڈھنگ میں پیش آنے والے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں خاتون کو قتل اور چار سالہ بچی کو زخمی کیا گیا تاہم قاتلوں کی وہاں موجودگی کے باوجود ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالا گیا جو باعث تشویش ہے۔ پارٹی نے واقعے کے خلاف صوبے بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے انہوں نے کہا کہ ایک طرف کورونا نے ہمیں گھروں تک محدود کردیا ہے لوگوں کے روزگار ختم ہورہے ہیں دوسری جانب دہشت گردی کا عفریت پھیلتا جارہا ہے ایسے واقعات کی پیش بندی کیلئے پارٹی نے آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے آئین و قانون کے مطابق سزا دے کر مقتولین کے ورثاءکو انصاف فراہم کیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مقتول کے ورثاءکو انصاف فراہم کرے۔ ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ آج تک ملک میں پیش آنے والے واقعات کو طول دینے کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی ہیں تاہم حالیہ واقعے پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے اگر مصالحت اختیار کی اور بروقت تحقیقات رپورٹ کو منظر عام پر نہ لایا تو اس کے خلاف ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔اُنہوں نے کہا کہ ایس ایچ او کی موجودگی کے باوجود وہاں پانچ گھنٹے تک نوجوانوں پر تشدد کیا گیا ایس ایچ او کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے کا ایک اعلیٰ افسر مسلکی اور فرقہ وارانہ واقعات میں ملوث رہا ہے جس کی واضح مثال یوم علی کے موقع پر برآمد ہونے والے جلوس میں شامل افراد کو وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ کے زیر صدارت اجلاس میں گرفتار کئے جانے کے فیصلے کے باوجود اے ڈی آئی جی کی جانب سے مقدمات تک درج نہیں کئے گئے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ صوبے میں ایک مرتبہ پھر سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اُنہوں نے کہا کہ ہزارہ ٹاﺅن واقعے کا سہولت کار بلوچستان کا مقامی باشندہ نہیں اور یہ کہاں کا رہائشی ہے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے اور ہزارہ برادری کو اپنے درمیان ایسے عناصر کی نشاندہی کرکے اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو باہر نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ڈی پی اور اعوامی نیشنل پارٹی مخلوط حکومت کا حصہ ہے انہیں بھی اپنی پوزیشن واضع کرنی چاہیے کہ وہمظلوم کے ساتھ ہے یا ظالم کے ساتھ ہے اُنہوں نے تربت واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت صرف چند افراد کو نوازرہی ہے جبکہ لوگ آپس میں دست و گریبان ہیں ۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ واقعے پر قائم جے آئی ٹی کی تشکیل میں ملزمان کو فائدہ پہنچایا گیا۔ واقعے کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بننا چاہیے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ ہزارہ ٹاو¿ن واقع سے متعلق تحقیقات اور انصاف کے تقاضوں کو پوری کرنا بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے اپوزیشن کو اس ضمن میں حکومت سے رابطہ کرنے کی ضرورت نہیں حکومت نے بجٹ سازی ، ترقیاتی منصوں اور صوبے مفاد میں ہونے والے فیصلوں میں اپوزیشن کو نظر انداز کیا انہوں نے کہا کہ چینی اسکینڈل کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مقصد زاتی مقاصد کے لیے منظر عام پر لایا گیا تاہم آج تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جی آئی ٹی کی تشکیل کے وقت حکومت کو چاہئیے تھا کہ وہ سیاسی جماعتوں اور مقتول کے ورثا ءکو اعتماد میں لیتی اگر جے آئی ٹی نے انصاف نہ کیا تو بی این پی احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے
