اسلام آباد:بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے سانحہ ڈنک پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ تربت کے علاقے ڈنک میں گھر میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر خاتون اور اس کی بچی پر گولی مار کر زخمی کر دیا جس میں ماں تو شہید ہو گئی اس کی بچی زخمی ہو گئی سردار اختر جان مینگل شہید خاتون اور معصوم بچی کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ جب اس معصوم بچی کو ہسپتال لے جایا گیا تو اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ موت کی دہلیز سے واپس آئی ہے جو ہوش میں آئی تو اس نے سب سے پہلے ہی ماں کا نام پکارا جسے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اس کی ماں کو شہید کر دیا گیا آج بھی جب بھی اس کے رشتہ دار ‘ عزیز و اقارب معصوم بچی کو دلاسا دیتے ہیں تو وہ صرف اور صرف اپنی ماں سے ملنا چاہتی ہے اس کی ماں کو اب کون لیا جا سکتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ قاتلوں میں سے چند کو موقع واردارت پر اور کچھ کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا ہے کچھ اب تک دھنداتے پر رہے ہیں اس ملک میں کمزوریاں ہیں رنگے ہاتھوں پکڑے ہوئے بھی رہا ہو جاتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے یہ دہشت گرد کون ہیں جن کی تصاویر وزراء‘ مشیروں کے ساتھ سلیفی لے کر سوشل میڈیا پر دے رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی ہے یہ ان دہشت گردوں کی تصویر ہیں یہ صرف ایک ضلع نہیں بلوچستان کے ہر ضلع میں اس طرح کے دہشت گرد پھالے گئے ہیں پچھلے بجٹ سیشن میں بھی میں نے کہا تھا کہ چند ڈیتھ سکواڈ بنائے گئے ہیں بلوچستان میں جن کو پیسے دیئے جا رہے ہیں کن کے خلاف جن کو ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے کیا ان کو کشمیر فتح کرنے کے لئے بھیجا جا رہا ہے یا پھر افغانستان میں خونی کھیل کھیلنے کے لئے بھیجا جا رہا ہے نہیں ان ڈیتھ سکواڈ کو صرف اور صرف سیاسی لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے معصوم بچی برمش اور اس کی والدہ کا قصور کیا تھا ملزمان کی گرفتاری سے ان کو انصاف نہیں ملے گا بلوچستان کا شاہد ہی کوئی ضلع بچا ہو جہاں بچوں کو یتیم نہیں کیا گیا ہے کئی علاقوں میں اجتماعی قبریں ملی ہیں وہ تو کی تمام انہی دہشتگردوں کی ہاتھوں سے ہیں میرا حکمرانوں سے سوال ہے کہ کب تک بلوچستان کے معصوم لوگوں سے یہ کھیل کھیلا جائیگا ڈیتھ سکواڈ کو مسلح کر کے بلوچستان کے لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے مجھے صرف یہ بتایا جائے کہ ان دہشت گردوں کو میں را کا ایجنٹ کہوں یا موساد کا ایجنٹ کہوں جن کو شہریوں کو قتل کرنے کے لائسنس دے دیئے ہیں منشیات کی اسمگلنگ ‘ اغواءکرنا ‘ علاقے کے لوگوں سے بھتہ لینا ان کے جیبوں میں باقاعدہ کارڈ ہیں کہ چیک پوسٹوں پر ان سے پوچھ گچھ نہ ہو سکے میں اور آپ اگر سی چیک پوسٹ سے گزاریں تو ہمیں اپنی شناختی کرانی پڑتی ہے یہ دہشت گردوں سڑکوں پر ہوں ‘ لوگوں کے گھروں میں جائیں یا کہ کسی کا قتل عام کریں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ان کو باقاعدہ ریاست کی جانب سے لائسنس دیئے گئے ہیں ان لائسنسوں کو منسوخ کیا جائے ۔
