خضدار( نمائندہ کوہ یار ) خضدار میںبرمش یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈھنک واقعہ کے خلاف ریلی نکالی گئی اور مظاہرہ کیا گیا،ریلی خضدار ٹاﺅن آفس سے نکالی گئی ، جو کرخ روڈ ، جناح روڈ، فیصل چوک،ہسپتال روڈ، اور ڈبل روڈ سے ہوتی ہوئی ، آذادی چوک پہنچی ۔ ریلی میں خواتین ، بچوں سمیت طلباءطالبات ، سیاسی و سماجی رہنماﺅں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔ جنہوںنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ ریلی کے شرکاءنعرہ بازی کررہے تھے ۔آزادی چوک پر مقبول بلوچ نے نغمہ گاکراپنی ترنم آواز شرکائے مظاہرین کو سنائے۔ مظاہرین میں بی این پی خضدار کے سینئر نائب صدر شفیق الرحمن ساسولی ، نیشنل پارٹی کے رہنماءولید بزنجو، سوشل ورکر نجیب زہری ، ،عبیداللہ گنگو، سفر خان مینگل ، ودیگر شریک تھے۔احتجاجی مظاہرکرنے والے خوتین ، طلباءاور دیگر طبقات سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مان منصور، شفیق الرحمن ساسولی، بی ایس او کے مرکزی سیکریٹری جنرل نادر بلوچ ،نیشنل پارٹی کے رہنماءمیر ولید بزنجو ،ایس ایس ایف کے مرکزی چیئرمین فضل یعقوب بلوچ ،بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے ممبرعبدالحفیظ بلوچ ، خالد بلوچ ،مقبول بلوچ ، خالدہ بلوچ ، عمران بلوچ ، جواد بلوچ،ذکریابلوچ،ذولیخہ بلوچ ، جویریہ بلوچ ،عتیق بلوچ ،حفیظ باجوئی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈھنُگ میں جو ظلم و ستم ہوا ہے و ہ داستان بیان کرنے کے قابل نہیں ہے ، یہ سلسلہ ایک روز کا نہیں ہے بلکہ یہ بلوچ کے ساتھ برسوں سے چلا آرہاہے ، جب ہم آج کھڑے نہیں ہوئے تو پھر ہماری تاریخ میں داستان تک نہیں ہوگی ۔ حکمران بے حس ہوچکے ہیں ،جرائم پیشہ افراد کے ذریعے اس طرح کے دلخراش واقعات پیدا کرکے آخر حکومت کیا چاہتی ہے ۔انہوںنے کہاہے کہ مسلح اسکوائڈ نے بلوچستان میں ہمیشہ ظلم کیا ہے ، جنہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے ۔لیکن وہ ظلم کے علاوہ کیا کچھ کرسکتے ہیں ۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ برمش کا نام نہ لیں ، ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ ذاکر مجید بلوچ کا نام نہ لیں ہم کیوں اپنے ان سپوتوں کے نام نہ لیں ، آپ جتنے مظالم کرلیں لیکن بلوچ آپ کی ظلم کو نہ خاطر میں لایا ہے اور نہ ہی اس سے خوف زدہ ہوگا آپ ظلم کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں ، مقررین نے کہاکہ ہم بہادر پیدا ہوئے ہیںا ور اسی طرح ہم اپنا جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ ظلم چاہے بلوچستان کے جس کونے میں ہو وہ ظلم ہے اور اس کے خلاف بلوچ ماضی میں اٹھ کھڑا ہوا ہے اور آئندہ بھی ظلم کے خلاف بلوچ آواز بلند کریگی ۔ ہمارے اعصاب اتنے شکست خوردہ نہیں ہیںکہ آپ کے ظلم سے تھک جائیں آج بلوچ جس تعداد میں یہاں جمع ہوئے ہیں یہ ایک جدوجہد اور بیداری کا نام ہے ہماری جدوجہد اسی طرح جاری و ساری رہے گی ۔ مقررین نے کہاکہ آج اس مظاہرہ و ریلی میں تمام طلباءتنظیمیں ، سول سائٹی کے افراد اور سیاسی جماعت کے نمائندے شریک ہیں یہی عوام کی آواز ہے جدوجہد ہے ۔بلوچستان میں مظلوموں کے ساتھ اس طرح کے واقعات اور مظالم جہاں کہیں بھی ہونگے ہم آواز بلند کرتے رہیں گے ۔برمش ایک بچی نہیں اور ملک ناز ایک خاتون نہیں کہ جن کی زندگیاں گل کردی گئیں ہیں بلکہ ا س طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں پیش آئی ہیں تاہم آج تک ان کے ملزمان گرفتار نہیں کیئے گئے ہیں ۔ جب کہ بلوچ اسٹوڈنٹس اور بلوچ نوجوانوں کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا جاتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت خواب ِ خرگوش سورہی ہے اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ، ڈیتھ اسکواڈ دندناتے پھر رہے ہیں جہاں چاہے لوگوں کو قتل کردیں جہاں چاہے ڈکیتی و اغوابرائے تاوان کی راہ اختیار کرلیں جنہیں کہنے والا کوئی بھی نہیں ہے ، اس طرح کے مظالم پر ہم مذید خاموش نہیں رہ سکتے ہیں لہذا حکومت حرکت میں آئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے ۔
