تربت (نمائندکوہ یار) مکران سوشل ایکٹیوسٹس مند کے کوآرڈینیٹر وارث بلوچ نے اپنے جارہ کردہ بیان میں گزشتہ شب طبعی امداد نہ ملنے سے تین سالہ شہداد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی نمائندگان اور حکومت بلوچستان کی نااہلی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہیکہ گزشتہ شب معصوم بچے کی طبعیت خراب ہوگئی تھی جنکو ابتدائی طبعی امداد نہ ملا اور اس کی وجہ سے تین سالہ بچے کی ہلاکت ہوئی۔ تحصیل مند میں صحت کے سہولیات ناپید ہیں جسکی وجہ سے پہلے بھی حاملہ خواتین کی ہلاکت کا واقع پیش آیا ہے۔ علاقائی نمائندوں نے ہر وقت مند کو نظرانداز کیا ہے۔ مند کے لوگ طبعی سہولیات و علاج کیلئے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت کا رخ کرتے ہیں اور تربت ٹو مند سڑک انتہائی خستہ حال اور سفر کرنے کی قابل نہیں ہے جس کی وجہ سے مریض تربت پہنچنے سے پہلے راستے میں دم توڑجاتے ہیں۔ انہوں نے مذید کہا ہیکہ یہ علاقہ وفاقی وزیر برائے دفائی پیداوار میڈم زبیدہ جلال کا آبائی گاو¿ں ہونے کے باوجود بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ دریں اثنائ۔ ایم ایس اے کے مرکزی ترجمان نے اس واقع پر انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہیکہ اس طرح واقعات بلوچستان حکومت اور محکمہ صحت کے منہ پر تھمانچے ہیں۔ حکومت مند میں صحت کی سہولیات کی کمی کو پورا کرنے کیلئے کردار ادا کرے۔
