سردار اختر جان مینگل نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنے چھ نکات پر عملدرآمد نہ ہونے کے بعد وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان تو کر دیا جس سے حکمران طبقہ بھی پریشانی سے دوچار ہو چکا ہے وہیںآج اسلام آباد میں منعقد ہونے والے آل پارٹیز کانفرنس میں بھی بلوچستان کے مسائل کے حل ‘ 18ویں ترمیم کے تحفظ کیلئے بھی مستقبل میں اقدامات کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہیں وہی بلوچستان حکومت کی اتحادی جماعت اے این پی پر بھی مستقبل میں صوبائی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا جائے گا ‘ سیاسی بادشاہ آصف زرداری ‘ مولانا فضل الرحمان نوابزادہ شازین بگٹی کی جانب سے اختر مینگل سے رابطے کے بعد حکومت بلوچستان کیلئے معاملات مستقبل میں اطمینان بخش نظر نہیں آ رہے ہیں اب اگر بلوچستان عوامی پارٹی وفاق میں بلوچستان کو بجٹ میں نظر انداز کرنے کے بعد بھی ووٹ دیتی ہے تو اس کے بعد بلوچستان کے عوام اس پر سراپا احتجاج ہوں گے اور اگر ووٹ نہیں دیتی تو پی ٹی آئی کی جانب سے باپ پارٹی سے اتحاد ختم ہونے کا امکان پیدا ہو جاتے ہیں مگر اسلام آباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وفاق سطح پر معاملات کچھ درست مگر صوبائی سطح پر معاملات دو ‘ چار ہفتوں میں سخت صورتحال اختیار کر سکتے ہیں ۔
