تحریر- علی احمد سنجرانی
چاغی مسائل کا گڑھ ہے گردی جنگل سے چاغی چاغی سے زیارت بلانوش اور پھر چاغی سے زاروچاہ براستہ لشکراب روڑ کے مکمل ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ تحصیل تمام کلیوں کی گلیاں پختہ روڑ سے محروم ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ یہاں ایسے سکول ہیں جن میں ٹیچرز نہیں، ٹیچرز ہیں تو کمرے نہیں اور اگر کمرے ہیں تو چار دیواری نہیں اسکے علاوہ یہاں کے لوگ پانی جیسی نعمت سےمحروم ہوکر پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور ہائے روز ٹھینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں۔اورغریب لوگ جو کہ ٹھینکر مافیا سے پانی خریدنےکی استطا عت نہیں رکھتے وہ لوگ ہتھریڑیوں کے اندر دور کے ٹیوبویلوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں اسکےعلاوہ اشیا ئے خوردونوش کی قیمتوں میں تگنا اضافہ کرنے والوں کےخلاف کوئی موثر کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے اور متعلقہ نرخنامہ بنانے والوں کی منافہ خوروں اور ذخیرہ اندوں پرگرفت نہ رکھنے کےسبب مہنگائی نے متوسط طبقے کی کمر تھوڑ دی ہے جسکی وجہ سے یہاں کے غریب عوام سخت لاچاری اور مایوسی کاشکار ہیں۔صحت کے میدان میں اگر دیکھاجائے تو آرایچ سی چاغی سے مقامی لوگ یکسرمحر وم ہیں ۔ادویات کا کوٹہ انتہائی کم ہونے کے سبب لوگ یہاں کارخ بھی نہیں کرتے اور پرا ئیویٹ کلینکس میں جاکر دوائیاں خریدنے پر مجبور ہیں۔ایکسرے لیبارٹری ایکٹو نہیں ڈیلیوری کیسز کے دوران متاثرن کوسیکنڈ ٹا ئم آنے کا وقت دیا جاتاہے اور بھاری رقومات کےعوض ان کیسز کوا ٹینڈ کیا جاتا ہے جوکہ بدترین ظلم ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ گردی گر مسائل کا جائزہ لیاجائے تو ایمبولینس سےآج تک غریب طبقہ استفادہ نہ کرسکا ۔کیونکہ چاغی سے دالبندین، نوشکی،کوئٹہ اور دیگر علاقوں تک مریضوں کو لے جانے کیلیے ایسے مہنگے کرائے فکس کیئے گئے ہیں جوکہ مریضوں کےمتعلقہ خاندانوں کے دسترس باہر ہے اس سے تو بہتر پرائیویٹ ڈبل سیٹر اور سراچے گاڑیاں وغیرہ ہیں جو کہ ایمبولینس فکس کرایوں سے کم کرایوں پرمریضوں کو لےجاتے اور واپس لاتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے۔کہ ایمبولینسز کو آمدن کا منافہ بخش ذریعہ بنا دیا گیاہے صرف یہی بازار کی نالیاں بدبو دار پانی اور کچروں سے بھری پڑی ہیں۔ٹریفک کا نظام جام رہتا ہے۔اور اوباش نوجوان بہت تیزی کے ساتھ بازار کے اندر موٹر سائیکل بھگاتے ہیں جسکی وجہ سے پہلے بھی خطرناک اورجان لیوا حادثات ہو چکے ہیں اورآئندہ بھی اگر پرسان حال کو ئی نہ رہا تو خدانہ کرےیہ تسلسل بر قرار رہنے کےخدشات ہیں
