بلوچستان اسمبلی ، بجٹ میں تمام حلقوں کےلئے یکساں فنڈز رکھے گئے ہیں ، حکومتی اراکین اسمبلی

بلوچستان اسمبلی ، بجٹ میں تمام حلقوں کےلئے یکساں فنڈز رکھے گئے ہیں ، حکومتی اراکین اسمبلی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) بلوچستان اسمبلی میں حکومتی اراکین نے بجٹ کو موجودہ حالات میں بہترین بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں تمام حلقوں کےلئے یکساں فنڈز رکھے گئے ہیں تاہم اگر کوئی کمی پیشی ہوئی تو اسے پورا کیاجائےگا، وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے فنڈ میں 30ارب روپے کی کٹوتی قابل مذمت ہے، کوروناوائرس کی صورتحال کی وجہ سے بھی بجٹ بنانے میں مشکل پیش آئی، ہمیں سرکاری ملازمین کا خیال رکھ کر ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ منگل کے روز ڈپٹی سپیکر سردار بابر خان موسیٰ خیل کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو ہم وفاق کے رویئے کی مذمت کرتے ہیںایک طرف یہ باتیں کہی جاتی ہیں کہ بلوچستان آدھا پاکستان ہے اور دوسری جانب بلوچستان کے فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگادیا جاتا ہے حالانکہ اس وقت اگر خطے میں بحیثیت ملک ہماری اہمیت ہے تو وہ بلوچستان کی وجہ سے ہے وفاق نے کٹ لگاکر بجٹ بنانے میں بھی مشکلات سے دوچار کیاوفاق کے اس رویئے کے خلاف وزیراعلیٰ جام کمال نے اسلام آباد میں احتجاج بھی کیا بلوچستان کو اس کا جائز حق اور حصہ ملنا چاہئے انہوںنے کہا کہ ان دنوں کوویڈ 19کی وجہ سے غیر معمولی حالات بنے ہوئے ہیں بجٹ سازی میں بھی مشکلات پیش آئیں لیکن اس تکلیف دہ اور مشکل حالات میں حکومت نے ایک اچھا بجٹ بنا کر پیش کیا جس پر ہم وزیر خزانہ او ران کی ٹےم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں البتہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں کا ضرور خیال رکھنا چاہئے تھا ہمیں صوبے کی سطح پر ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے منصوبہ بندی کرنی چاہئے اور تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ انہوںنے اپوزیشن لیڈر کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوست کہتے ہیں کہ اس وقت ملک میں جمہوریت نہیں ہے کیا وہ جمہوریت ٹھیک تھی جو باوردی پرویز مشرف کے دور میں تھی اور ہمارے دوست ان کے اتحادی بنے ہوئے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ پچھلی حکومت نے جو غلط روایات ڈالیں ہم انہیں ختم کررہے ہیں سابق دور میں اپوزیشن ممبران کے حلقوں کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہم اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کررہے ہیں پورے صوبے کے تمام علاقوں کا یکساں حق ہے ہم روایات اور اقدار کے امین لوگ ہیں ۔اصغرخان اچکزئی نے ایوان کی توجہ چمن میں جاری احتجاج کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ17دن سے چمن میں احتجاج ہورہا ہے کیونکہ سرحد کی بندش سے تجارت رک گئی ہے اور لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں دو مارچ س کوویڈ19کے باعث بننے والے حالات کے پیش نظر سرحدیں بند کی گئیں اب باقی شعبے تو کھول دیئے گئے ہیں لیکن سرحداب تک بند ہے چمن سمیت اکثرسرحدی علاقوں میں لوگوںکا روزگار سرحدی تجارت سے وابستہ ہے لوگوں کے پاس جو جمع پونجی تھی وہ ختم ہوچکی ہے یہ صوبائی حکومت کاکام نہیں بلکہ یہ مسئلہ وفاق نے حل کرنا ہے وفاقی حکومت کے سامنے صوبائی حکومت مفلوج ہوچکی ہے 17دن سے چمن میں ہزاروں لوگ احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں اس مسئلے پر وفاق سے بات کی جائے اور یہ مسئلہ فوراً حل کرایا جائے ۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نے کہا کہ اپوزیشن ارکان نے پہلے دن سے ہی حکومت سے تعاون کی بجائے صوبے کی ترقی کیلئے کوششوں روڑے اٹکائے اور آج بھی اپوزیشن ارکان اپنے حلقوں میں کام کرنے کی بجائے ہمارے دوستوں کے کاموں کی تصاویر دکھارہے ہیں جو دوست حکومت کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرتے ہیں اپنے دور حکومت میں لوگوں کے شہید ہونے پر وہ کہتے تھے کہ ٹشو پیپر بھجوادیں گے موجودہ صوبائی حکومت سانحہ ہزارہ ٹاﺅن اور ڈھننک کے ملزمان کو 48گھنٹوں سے کم وقت میں گرفتار کیا صوبائی حکومت نے بلا تعصب پورے صوبے میں کام کیے ہیں پورا بلوچستان ہمارا ہے اور تمام حلقوں کو یکساں ترجیح دی گئی ہیں تمام حلقوں کو ترقیاتی منصوبے دئیے گئے ہیں اپوزیشن ارکان سے بجٹ سے قبل بات چیت ہوئی ان کے کچھ تحفظات درست ہیں اور کچھ مسائل کے حوالے سے ان سے اتفاق بھی کیا اور اپنی بات پر آج بھی قائم ہے مگر اپوزیشن ارکان نے بحث کو اتنا طول دیا کہ بجٹ سر پر آگیا بجٹ کے بعد آج بھی اپوزیشن ارکان سے تہہ پانے والے باتوں پر کھڑے ہیں اور اپنی بات پوری کریں گے انہوں نے تاریخی بجٹ کی تیاری پر صوبائی حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایک تاریخی بجٹ ہے ۔ صوبائی وزیر پی ایچ ای نور محمد دمڑ نے بجٹ کو عوام دوست بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم موجودہ مشکل حالات کے باوجود عوام دوست بجٹ بنا نے پروزیراعلیٰ ، وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہیں اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں کورونا وائرس کے باعث بحرانی حالات ہیں کورونا وائرس نے ہم سے انتہائی قیمتی لوگوںکو چھین لیا وبائی حالات نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت نے تاریخی اور عوام دوست بجٹ بنایا جس پر حکومت کو داد نہ دینا بدنیتی ہوگیاانہوںنے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال نے ہر فورم پر بلوچستان کے مسائل کوا نتہائی بہتر انداز میں اجاگر کیا اور مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھائے اتحادی ہونے کے باوجود انہوںنے وفاق میں احتجاج کیا اور وزیر خزانہ کے ہمراہ واک آﺅٹ تک کیا یہ وزیراعلیٰ جا م کمال ہی کی کوششیں ہیں کہ زیارت روڈ اور ہرنائی شاہراہوں کو دورویہ بنانے سمیت بلوچستان کے لئے دیگر میگا پراجیکٹس وفاقی پی ایس ڈی پی کا حصہ بنیں مگر افسوس کہ اس کے باوجود اسمبلی کے اندر او ر اسمبلی کے باہر چوک چوراہوں پر وزیراعلیٰ سے متعلق ایسے جملے کہے گئے جن کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ صوبائی حکومت پورے صوبے کی ترقی کے لئے کوشاں ہے ۔صوبائی وزیر مٹھا خان کاکڑ نے آئندہ مالی سال کے کامیاب اور عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جب بھی بجٹ کی تیاری کا مرحلہ آتا تھا تو سول سیکرٹریٹ میں خریدوفروخت کا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا جس کا موجودہ دور حکومت میں مکمل طور پر خاتمہ کیا گیا ہے وزیراعلیٰ جام کمال خان نے بلوچستان کے حقوق کے لئے وفاق میں جس طرح آواز اٹھائی وہ قابل ستائش ہے اور وفاق سے بلوچستان کا حصہ لینے میں کامیاب رہے ہیں۔بعدازاں اجلاس آج سہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیاگیا اراکین آج بھی اگلے مالی سال کے بجٹ پر جاری عام بحث میں حصہ لیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!