کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) چمن کے مقامی صحافیوں کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کا بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے واک آﺅٹ، اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا، وزیراعلیٰ جام کمال نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے ،صوبائی وزیر داخلہ نے صحافیوں کے مطالبے پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا ۔ منگل کے روز ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل کی زیر صدارت ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ روز چمن سے دو مقامی صحافیوں کی گرفتاری اور تشدد کے خلاف بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے ایوان سے واک آﺅٹ کیا گیا اور اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس موقع پر پی ایف یوجے کے صدر شہزادہ ذوالفقار ، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین و دیگر نے صحافیوں پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ کس جرم کے تحت صحافیوںکو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا اور ان پر بدترین تشدد کیا گیا ۔اس واقعے کے مرتکب اہلکاروں کو معطل کرکے سینئر پولیس افسر کی سربراہی میں تحقیقات کرائی جائیں ۔اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر ضےاءاللہ لانگو اوراصغر خان اچکزئی نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ صحافیوں کی گرفتاری اور ان پر تشدد کے واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں گی صحافیوں سے کوئی زیادتی برداشت نہیں کرینگے ۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعلیٰ جام کمال نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے صوبائی وزیر داخلہ نے صحافیوں کے مطالبے پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کرلیا ۔پشتونخوا میپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے نے معاملہ اسمبلی میں پوائنٹ آف آر ڈر پر اٹھاتے ہوئے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دورحکومت میں جمہوری روایات کوپامال کیاجارہاہے چمن کے سینئر صحافی متین اچکزئی اور سعید علی اچکزئی پر بدترین تشدد کیا گیا ہے آزادی صحافت کیلئے ہمارے اکابرین نے بے شمار قربانیاں دی ہے خان شہیدعبدالصمد خان اچکزئی نے 1938ءمیں پریس ایکٹ منظور کرایا ،انہوں نے مطالبہ کیاکہ صحافیوں پر تشدد کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایاجائے اور کمیشن میں اپوزیشن اراکین کو بھی شامل کیاجائے ۔صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ نے واقعہ کا از خود نوٹس لیکر آئی جی سے رپورٹ طلب کی ہے جو بھی ذمہ دار ٹھہرا ان کے خلاف کارروائی ہوگی ۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے بھی صحافیوں کی گرفتاری اوران پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قابل مذمت اور دلخراش واقعہ ہے اس ماورائے آئین وقانون اقدام میں جو بھی لوگ ملوث ہیں انکے خلاف کارروائی ہونی چاہئے ہمیں سمجھ نہیں آرہی کہ ان سے کیا خطرہ تھا کہ انہیں راتوں رات مچھ جیل پہنچایاگیا اور راستے میں خطرناک قسم کا تشدد بھی ان پر کیا گیا پھر اگر واقعی وہ قصور وار تھے تو انہیں راتوں رات کیوں چھوڑ کر رہائی دی گئی اس واقعے نے آزادی صحافت کے حوالے سے سرشرم سے جھکادیئے ہیں اس واقعے میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔
