ایران میں انسٹاگرام پر شیرخوار بچے بیچنے کی کوشش، تین افراد گرفتار

ایران میں انسٹاگرام پر شیرخوار بچے بیچنے کی کوشش، تین افراد گرفتار

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

ایرانی دارالحکومت تہران سے بدھ چوبیس جون کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ تینوں مشتبہ ملزمان انسٹاگرام پر دو شیر خوار بچوں کو فروخت کرنے کی کوشش میں تھے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے اِسنا نے تہران پولیس کے سربراہ حسین رحیمی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری پولیس کو ملنے والی ان اطلاعات کے بعد ممکن ہوئی کہ ‘انسٹاگرام پر برائے فروخت بچوں کے بارے میں اشتہار‘ دیے جا رہے تھے۔آئی ایل او کے مطابق پاکستان میں محنت مزدوری پر مجبور قریب چالیس لاکھ بچے یا تو کوڑا چنتے ہیں، سڑکوں پر چھوٹی موٹی چیزیں بیچتے ہیں، ریستورانوں میں کام کرتے ہیں یا پھر مختلف ورکشاپوں میں کام کرتے ہیں۔ اس تصویر میں نظر آنے والا پانچ سالہ عرفان مجید اپنے گیارہ سالہ بھائی کے ہمراہ اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں ایک ورکشاپ مکینک کے پاس دیہاڑی پر کام کرتا ہے۔پولیس کے مطابق چھان بین کرنے پر پتا چلا کہ انسٹاگرام پر مختلف ناموں سے بنائے گئے 10 سے لے کر 15 تک اکاؤنٹ ایسے تھے، جن پر ایسے اشتہارات پوسٹ کیے گئے تھے۔ اس انکشاف کے بعد حکام نے ان اکاؤنٹس کو چلانے والے تین افراد کو حراست میں لے لیا۔ انسٹاگرام بنیادی طور پر ایک فوٹو شئیرنگ ایپ ہے اور ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر یہ ایران میں ‘ٹیلیگرام‘ نامی ایپ کی طرح انتہائی مقبول ہے۔تہران پولیس کے سربراہ رحیمی نے بتایا کہ جو تین ملزمان ان دو بچوں کو بیچنے کی کوشش میں تھے، انہوں نے بھی یہ دونوں شیرخوار ‘خریدے‘ تھے۔ حسین رحمیی کے بقول، ”ان بچوں کو 50 ملین ایرانی ریال سے لے کر 100 ملین ریال (255 امریکی ڈالر سے لے کر 510 ڈالر تک) کے درمیان قیمت پر خریدا گیا تھا۔ ملزمان ان دونوں بچوں کو کسی بھی ممکنہ خریدار کو 400 ملین اور 500 ملین ریال کے درمیان تک کی قیمت پر فروخت کرنا چاہتے تھے۔‘‘جو ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں، ان کا پہلے سے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد 20 دن اور دو ماہ کی عمروں کے ان بچوں کو سماجی بہبود کے مقامی محکمے کے حکام کی حفاظتی نگرانی میں دے دیا گیا۔ گرفتار شدگان کی انفرادی شناخت اور جنس ظاہر نہیں کی گئی۔ ایرانی نیوز ایجنسی اِسنا نے تاہم لکھا ہے کہ ملزمان میں سے ایک نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ محض رابطہ کار یا ‘درمیان کے آدمی‘ کا کردار ادا کر رہا تھا کیونکہ وہ بے روزگار تھا اور اسے رقم کی ضرورت تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!