نوشکی، طلبا کی گرفتاری کیخلاف بلوچ طلبا کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ

نوشکی، طلبا کی گرفتاری کیخلاف بلوچ طلبا کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

نوشکی نامہ نگار کنوشکی پریس کلب کے سامنے کوئٹہ میں آن لائن کلاسز کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلباء و طالبات کے گرفتاریوں کے خلاف بلوچ طلباء نوشکی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا گرفتاریوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی، مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن کے احتجاجی کلمات درج تھے اس موقع پر اسٹوڈنٹس رہنماء صدام بلوچ، ہارون بلوچ، امدادبلوچ،نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے ضلعی صدر عطاء اللہ مینگل ، بی ایس او پجار کے حق نواز شاہ، جمعیت علماء اسلام کے حافظ عبداللہ گورگیج، اسٹوڈنٹس رہنماء دانیال بلوچ، سجاد بلوچ، ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نےجمہوری انداز میں مظاہرہ کرنے والے طلباء و طلبات کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کئیے گئے ہیں جو قابل مذمت ہے، انہوں نے کہاکہ آج کا یہ احتجاج ایک طبقہ ، ایک زات اورایک طبقہ کے لئیے نہیں بلکہ پورے بلوچستان اور بلوچ قوم کے لئیے ہیں، ہمارا تعلیمی نظام انتہائی ناقص ہے، ہم اپنے تعلیم کے حق میں احتجاج کررہے ہیں ، تعلیم کے بغیر ترقی ناممکن ہے، تعلیم کے نام پر جو آن لائن کلاسز شروع کئیے جارہے ہیں خوش آئند ہے مگرانٹر نیٹ کی سہولت بھی دی جائے، آن لائن کلاسز صرف ایلیٹ طبقہ کے لئیے بنایا گیا ہے، آواران میں ٹیلی فون اور نیٹ کی سہولت نہیں پھر وہ کس طرح آن لائن کلاسز لے سکیں گے، اسی طرح بلوچستان کے اکثر اضلاع موبائل اور نیٹ کی سہولت سے محروم ہے، ہمیں تھری جی اور فور جی کے نام پر دھوکہ دیا جارہاہے، انہوں نے کہاکہ ہمارے بلوچ خواتین جب گھر سے نکل کر تعلیمی میدان میں آجاتے ہیں، مگر سہولیات کی فقدان ہے اور جب احتجاج کرتے ہیں تو انکا دوپٹہ اتار کر گرفتار کرلیتے ہیں، بلوچستان یونیورسٹی یونیورسٹی کم اور ایف سی کیمپ زیادہ ہے، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا اکثر آبادی انٹرنیٹ کی سہولت ناپید ہےاور اکثر علاقوں میں نیٹ ورک اور انٹر نیٹ تھری اور فور جی کو بند کئیے ہوئے ہیں پھر آن لائن کلاسز کس طرح کامیاب ہونگے، اسٹوڈنٹس آئین کے اندر احتجاج کررہے تھے تو پھر گرفتار کیوں کئیے گئے ، انہوں نے کہاکہ ماہ رنگ بلوچ بلوچستان کے والی وارث ہے، انکی ننگ وناموس کے لئیے ہر بلوچ میدان میں نظر آئے گا، آج بلوچ حکمرانوں کے موجودگی میں بلوچ طلباء خواتین پر تشدد کرکے گرفتار کیا گیا جو کہ قابل مذمت ہیں، مکران بیلٹ انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں پھر کس طرح آن لائن کلاسز سے طلباء مستفید ہونگے جہاں انٹر نیٹ اور بجلی کی سہولت موجود ہیں، انہوں نے کہاکہ نوجوانوں اور خواتین کو لاپتہ کیا جارہاہے ، برمش مارا جاتا ہے، اور بلوچ طالبات کو گرفتار کیا جاتاہے کیا یہ آزادی کا نشانی ہے، وفاق کا روئیہ بلو چستان کے ساتھ درست نہیں، مختلف ہیلے بہانوں سے بلوچستان کے طلباء کو تعلیم سے دور رکھا جارہاہے،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!