بھارت، چین کشیدگی کے درمیان سرحد پر ایک نیا محاذ

بھارت، چین کشیدگی کے درمیان سرحد پر ایک نیا محاذ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

ایسے وقت جب مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر وادی گلوان اور پونگانگ جھیل کے تعلق سے بھارت اور چین کے درمیان حالات پہلے ہی سے کشیدہ تھے، ڈیپسنگ کے علاقے میں بھی بڑی تعداد میں چینی فوجیوں کے جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے متعدد خبریں شائع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دولت بیگ اولڈی میں بھارتیہ فضائیہ کی بیس سے تقریبا ً30 کلو میٹر کے فاصلے پر ڈیپسنگ میں وائی جنکشن یا پھر بوٹل نیک کہے جانے والے علاقے میں چین نے بڑی تعداد میں فوجیں تعینات کر دی ہیں۔اس طرح کی تمام خبریں بھارتی فوجی ذرائع کے حوالے سے آئی ہیں جس کے مطابق چین نے اس مقام پر بڑی تعداد میں فوج کے ساتھ ساتھ بھاری فوجی گاڑیاں اور خصوصی فوجی ساز و سامان بھی جمع کر رکھا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں 2013 میں بھی چینی فوجیوں نے ٹینٹ نصب کرلیے تھے اور دونوں ملکوں کے درمیان ہفتوں کی بات چیت کے بعد معاملہ حل ہوا تھا۔ادھر بھارت کی جانب سے بھی سرحد پر فوجیوں کے بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سری نگر لداخ شاہراہ پر بھارتی فورسز کی ہنگامی نقل و حرکت کا سلسلہ جاری ہے۔ لشکروں کے قافلے، فوجی ساز و سامان، بکتر بند گاڑیاں، توپیں اور دیگر جنگی ساز و سامان کشمیر سے لداخ کی جانب منتقل کئے جا رہے ہیں۔ جنگی طیارے فضا میں گشت کرتے دیکھے جا سکتے۔ روسی ساخت کے بھارتی فضائیہ کے یہ بیشتر طیارے کشمیر میں پلوامہ کی ایئر بیس سے پروازبھرتے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وہ خصوصی فوجی دستوں کو ایل اے سی پر تعینات کرنے کے لیے لداخ پہنچا رہے ہیں۔بھارت اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی کم کرنے کے لیے فوجی سطح پر کئی دور کی بات چیت ہو چکی ہے اور سفارتی سطح پر اب بھی جاری ہے۔ فوجی ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ فریقین نے سرحد پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم زمینی سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے اور حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔بھارت کے ایک موقر انگریزی اخبار نے لکھا ہے کہ ڈیپسنگ کے بوٹل نیک علاقے میں اس وقت چینی فوج جہاں موجود ہے اسے اگر بھارت کے نظریے سے دیکھا جائے تو چین کی فوج بھارت میں ایل اے سی کے تقریبا ً18 کلومیٹر اندر ہے۔ اخبار کے مطابق اس سلسلے میں جب بھارتی فوج کے ایک ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پرتبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس خبر کی نہ تو تردید کی جاسکتی ہے اور نہ ہی تصدیق کی جا سکتی ہے۔بھارتی فوجی سربراہ منوج نروانے لداخ کے دو روزہ دورے سے واپسی کے بعد آج نئی دہلی میں سیاسی قیادت سے ملاقات کرنے والے ہیں۔جہاں وہ ایل اے سی کی صورتحال کے بارے میں حکومت کو بریف کریں گے۔ بھارتی فوجی سربراہ نے گلوان وادی میں چین اور بھارت کے فوجیوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد علاقے کا دورہ کیا۔ اس تصادم میں بھارت کا ایک کرنل سمیت بیس فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!