بلوچستان اسمبلی اجلاس ، ایئر ایمبولینس کی بجائے  رکشہ یا تانگہ ایمبولینس دی جائے، اپوزیشن اراکین

بلوچستان اسمبلی اجلاس ، ایئر ایمبولینس کی بجائے رکشہ یا تانگہ ایمبولینس دی جائے، اپوزیشن اراکین

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ ( سٹاف رپورٹر) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کے ایئر ایمبولینس منصوبے پر اپوزیشن اراکین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رکشہ یا تانگہ ایمبولینس دی جائے ہمارے پاس ایسی کوئی سہولت نہیں،صوبہ وزیراعلیٰ کے جہاز کے اخراجات برداشت نہیں کرپارہا ایئر ایمبولینس کے اخراجات کہاں سے پورے کریں گے جبکہ حکومتی رکن نے واضح کیا کہ ایئر ایمبولینس کا منصوبہ غریب عوام کے لئے شروع کیاجارہا ہے ، ایمبولینس میں صوبے کے غریب مریضوں کو حکومتی خرچے پر علاج کے لئے اچھے سے اچھے ہسپتال میں منتقل کیا جائے گا۔جمعرات کو صوبائی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران چیئر مین پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی اخترحسین لانگو نے کہا کہ ہمارے پاس وینٹی لیٹر چلانے والے تربیت یافتہ لوگ نہیں مگر اب حکومت ایئر ایمبولینس خریدنے جارہی ہے کتنے لوگ اس کے اخراجات برداشت کرسکیں گے اور کتنے شہروں میں جہاز کے اترنے اور اڑنے کی سہولت موجود ہے ہم تو وزیراعلیٰ کے جہاز کے اخراجات برداشت نہیں کرپارہے ایئر ایمبولینس کے اخراجات کہاں سے پورے کریں گے بہتر ہوتا کہ عوام کو صحت سمیت دیگر سہولیات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی جاتی ، جے یوآئی کے رکن مولوی نوراللہ نے کہا کہ حکومت نے ایئر ایمبولینس کے لئے ڈھائی ارب روپے رکھے گئے ہمیں کم از کم کوئی رکشہ یا تانگہ ایمبولینس ہی دیا جائے کیونکہ ہمارے پاس ایسی کوئی سہولت نہیں انہوںنے کہا کہ ان کے حلقے میں ہسپتال میں 32ڈاکٹرز تعینات ہیں مگر شاز ونادر ہی کوئی ڈیوٹی پر آتا ہو متعلقہ حکام کو بار بار آگاہ کرنے کے باوجود اس جانب کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ اسی طرح جے یوآئی ہی کے رکن اصغر علی ترین نے بھی ایئر ایمبولینس کے حکومتی منصوبے پر طنزیہ لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی ارب روپے اس منصوبے کے لئے رکھے گئے ہیں لیکن ہمیں یہ بتایا جائے کہ ان ڈھائی ارب کے مقابلے میں بی ایچ یو ز کے ئے کتنی رقم رکھی گئی ہے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار سب کے سامنے ہے پشین کوئٹہ سے صرف پینتیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے مگر وہاں نہ تو ایمبولینس نہ ہی دیگر سہولیات دستیاب ہیں تاہم بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن دنیش کمار نے ایئر ایمبولینس سے متعلق اپوزیشن اراکین کے موقف سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ ایئر ایمبولینس کا منصوبہ بلوچستان کے غریب عوام کے لئے رکھا گیا ہے اور اس ایمبولینس میں صوبے کے غریب مریضوں کو حکومتی خرچے پر علاج کے لئے اچھے سے اچھے ہسپتال میں منتقل کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!