پی بی 31میں حکومت ترقیاتی کاموں میں بڑی رکاوٹ ہے ‘ نصر اللہ زیرے

پی بی 31میں حکومت ترقیاتی کاموں میں بڑی رکاوٹ ہے ‘ نصر اللہ زیرے

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ :بلوچستان اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرے نے بجٹ کو عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں پی بی 31سمیت دیگر تمام اپوزیشن اراکین کے حلقوں کے عوام کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ ہم آپ کے علاقوں کی ترقی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ حکومت اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے انہوںنے کہا کہ بجٹ الفاظ کا ہیر پھیر ہے جس کے ذریعے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے نان ڈویلپمنٹ فنڈز کو بھی ڈویلپمنٹ مد میں ظاہر کیا گیا ہے انہوںنے کہا کہ یہ بجٹ آئین اور قانون کے خلاف ہے جس میں87ارب کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے بجٹ مینول کے مطابق 12فیصد سے زائد خسارے کا حامل بجٹ پیش ہی نہیں کیا جاسکتا جبکہ موجودہ بجٹ میں خسارہ 20فیصد سے بھی زائد ہے اگر کوئی رکن اسے عدالت میں چیلنج کرے تو اس پر اسٹے مل سکتا ہے انہوںنے نے کہا کہ فنڈز مختص کرنے میں امتیازی سلوک برتا گیا ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکا ہے کہ خود ڈپٹی سپیکر کے حلقے کو بھی صرف چودہ کروڑ روپے کے منصوبے دیئے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ بجٹ میں صحت اور تعلیم کے لئے خطیر رقم مختص کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن عملاً جن محکموں میں کرپشن زیادہ ہے ان کے لئے سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے زراعت ،لائیوسٹاک اور ماہی گیری سمیت وہ شعبے جن سے صوبے کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں انہیں نظر انداز کیا گیا ہے اس کے برعکس وہ محکمے جہاں کرپشن اور کمیشن زیادہ ہے ان کے لئے 23فیصد رقم مختص کی گئی ہے صوبائی حکومت وفاق میںصوبے کا 30ارب روپے گنوا بیٹھی ہے اس پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی باعث افسوس ہے انہوںنے کہا کہ ٹڈی دل کا بروقت تدارک نہ ہونے کے باعث صورتحال انتہائی سنگین ہوچکی ہے اب اقدامات اٹھانے کا کوئی فائدہ نہیں وزیراعظم نے کورونا کو خوش آمدید کہا جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے دس ہزار لوگوں کا مجمع بارڈر پر اکٹھا کیا انہوںنے کہا کہ وفاقی بجٹ میں بھی پشتون اضلاع کو نظر انداز کیا گیا ہے زیارت موسیٰ خیل اور چمن میں یونیورسٹیز کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن وہ پورا نہیں ہوا اسی طرح سپیرہ راغہ روڈ ، ڑوب ڈیرہ اسماعیل خان اور چمن ، کوئٹہ کراچی شاہراہوں کے اہم ترین منصوبے پی ایس ڈی پی سے نکال باہر کئے گئے ہیں گرڈ سٹیشن اور آبنوشی سکیمات میں بھی پشتون اضلاع کو نظر اندا زکیا گیا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!