دالبندین۔(محمد بخش بلوچ سے ) چند روز قبل چاغی کے قریب قتل کیے جانے والے نوجوان ناصر خان مری کے لواحقین نے دالبندین پریس کلب میں پریس کانفرنس کے ذریعے قتل کے مقدمے میں ناقص تفتیش، زیر حراست ملزمان کی سیاسی، قبائلی اور سرکاری سطح پر پشت پناہی اور مفرور ملزمان کے عدم گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس سلسلے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے تفتیش کرائم برانچ سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران مقتول کے والد میر گل مری، جمال مری، ولی خان مری، پیر محمد مری، محراب خان مری، محمد آغا مری ودیگر نے الزام عائد کیا کہ تحصیلدار چاغی نے قتل کے مقدمے میں جانبداری کا مظاہرہ کرکے ناقص تفتیش کے ذریعے کیس کو کمزور بنانے کی کوشش کی جس کا فائدہ زیر حراست ملزمان کو مل رہا ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ کیس کی باقاعدہ کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی ایک نامزد ملزم کو سیشن جج دالبندین کی عدالت سے ضمانت دی گئی جس سے انھیں بہت مایوسی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کی واردات کے بعد ان کی مکمل تعاون سے دو ملزمان کو گرفتار کروایا گیا جن سے صحیح تفتیش نہیں کی گئی اور انھیں تفتیش کے دوران چاغی لیویز تھانے میں مہمان کی طرح بٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تمام صورتحال سے انھیں ایسا لگنے لگا ہے کہ شاید وہ انسان اور اس ملک و معاشرے کا شہری نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ انتہا درجے کی ناانصافی اور امتیازی سلوک کی جارہی ہے ناصر خان مری کو ناحق قتل کیا گیا ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی بلکہ وہ پرامن شہری ہیں اور محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرتے ہیں لہذا ان کے صبر اور قبائلی روایات کا امتحان نہ لیا جائے بلکہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے کیونکہ ناانصافی سے معاشرے تباہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک قیمتی نوجوان کھو دیا ہے اور اس وقت ان پر جو گزر رہی ہے اسے وہ ہی بہتر جانتے ہیں لہذا ان کے ساتھ مزید ظلم و زیادتی بند کی جائے۔ انہوں نے چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان، وزیر اعلی بلوچستان، گورنر بلوچستان، کور کمانڈر، سیکرٹری داخلہ، کمشنر رخشان ڈویژن، ڈپٹی کمشنر چاغی، اسسٹنٹ کمشنر دالبندین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سے مطالبہ کیا کہ ناصر خان مری کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے مقدمے کی تفتیش کرائم برانچ سے کرائی جائے جس کے لیے ڈپٹی کمشنر چاغی سیکرٹری داخلہ کو مراسلہ بھی ارسال کرچکے ہیں جو فوری عملدرآمد کی متقاضی ہے
