حکومت کے طلباء و طالبات سے  مذاکرات فوٹو سیشن کے حد تک تھے ،  ناصر بلوچ

حکومت کے طلباء و طالبات سے مذاکرات فوٹو سیشن کے حد تک تھے ، ناصر بلوچ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ(پ ر) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری ناصر بلوچ نے کہا ہے گذشتہ مرتبہ بولان میڈیکل کالج بحالی ایشو پر بلوچستان حکومت طلباء و طالبات گرفتار پھر نام نہاد طریقےسے صرف فوٹوں سیشن کے حد تک مزاکرات کئے لیکن اسکا نتیجہ یے کہ مہینوں گزرنے کے باوجود بلوچستان حکومت طلباء وطالبات کے مطالبات پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا اب وہی سلسلہ ایک دفعہ پھر آنلائن کلاسز کے خلاف طلباء و طالبات کے احتجاجی تحریک کو ناکام بنانے کے لئے برقرار رکھا گیا تاکہ رائے عامہ کو گمراہ کرکے طلباء و طالبات کے گرفتاری کے مذموم مقاصد سے ہٹایا جاسکے انہوں نے مزید کہا ہے بلوچستان حکومت تعلیمی مسائل پر مکمل طور پر غیر سنجیدہ بلوچستان حکومت مذاکرات کے نام پر صرف شعبدہ بازی کرتی ہے حکومت ساتھ ہر قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہے انہوں نے مزید کہا ہے بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو غیر فعال کرنے طلباء و طالبات کا اشتعال دلا کر جذبات کا شکار بنانے کا مقصد شعوری و پرامن سیاست کو نقصان پہنچانا ہے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن موجودہ صدی کے تقاضوں کے مطابق شعوری طور پر طلباء و طالبات کی رہنمائی کررہی ہے حالیہ آنلائن کلاسز کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں پریس کانفرنس بھوک ہڑتالی کیمپس اور قانونی معاز پر بی ایس او نے ہی بغیر اشتعال جذبات مذاکرات کے طلباء کے آواز کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا اور احتجاجی تحریک میں بلوچستان کے تمام طلباء و طالبات کو متحرک کیا بی ایس او ہمیشہ ظلم و جبر اور روایات کے پامالی تعلیم دشمنی کے اقدامات کا مقابلہ کرتی آرہی ہے طلباء تحریک کو وقتی جذبات کا شکار نہیں ہونے دینگے بلکہ اسے قومی شعوری سیاست کے زریعے مضبوط کرینگے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!