جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا ایک بیان منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور ایف بی آر کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھے مسلسل ہراساں کیا جارہا ہے اور جھوٹے پراپیگنڈے کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنائے جانے کے خلاف ریفرنس میں مسز سرینا عیسیٰ کی جانب جمع کروائے گئے بیان اور لندن میں ان کی جائیدادوں کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں، جس میں انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ مجھ سے کم ٹیکس دینے والے عمران خان کیسے 300 کنال کے گھر اور اس کے اخراجات برداشت کرتے ہیں عمران خان کے ساتھی میڈیا پر آکر میری کردار کشی کرتے ہیں؟۔بیان میں سرینا عیسیٰ کی جانب سے کہا گیا ایف بی آر کی جانب سے کہا گیا کہ 25 جون کو بھیجے گئے نوٹسز پر جواب جمع نہیں کروایا گیا حالانکہ اسی دن میرے والد کا انتقال ہوا تھا، میرے خلاف اس جھوٹ کو بنیاد بنائی گیا اور نوٹسز گیٹ پر چسپاں کردیئے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ میری طرف سے تمام ترتفصیلات ایف بی آر کو فراہم کردی گئی ہیں، کیا ایف بی آر عمران خان سے سوال کرسکتا ہے کہ وہ مجھے سے کم ٹیکس کیوں دیتے ہیں؟ کیاایف بی آر مجھے عمران خان ، عبدالوحید ڈوگر اور دیگر حکومتی ارکان کے ٹیکس گوشوارے فراہم کرسکتا ہے؟
