صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت شمالی وزیرستان کے علاقے خڑقمر میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے سے متعلق پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے خلاف دائر مقدمے سے دستبردار ہونے کی خواہاں ہے۔آج یہ بات سامنے آئی کہ 16 مارچ کو بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس کی کاپی ڈان کے پاس موجود ہے، اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ حکومت کیس سے دستبردار ہونا چاہتی ہے جس کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایبٹ آباد میں ہورہی ہے۔مذکورہ درخواست ریاست کی جانب سے ضلع بنوں کے پبلک پراسیکیوٹر اور اے ٹی سی بنوں کے سینئر پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔درخواست میں لکھا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق ریاست/حکومت، موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس کیس کی پروسیکیوشن سے دستبردار ہونا چاہتی ہے۔شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عدالت کے ایک عہدیدار نے یہ تصدیق بھی کی کہ درخواست دائر ہوچکی ہے۔تاہم ابھی تک عدالت کی جانب سے درخواست کی سماعت کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے پروسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے حکام نے اس معاملے پر کوئی جواب نہیں دیا۔محسن داوڑ اور علی وزیر کے قانونی نمائندے عبداللطیف آفریدی جو سینئر وکیل بھی ہیں اور پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہیں انہوں نے بھی اس اقدام کی تصدیق کی لیکن کہا کہ ان کے موکلوں کو حکومت کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی کاپی ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔خیال رہے کہ کیس سے دستبرداری کا اقدام پی ٹی ایم کی جانب سے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے اعتماد سازی کے اقدامات کا سنجیدگی سے مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔گزشتہ ماہ ایک پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے کہا تھا کہ حکومت اعتماد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لازمی اقدامات اٹھائے اور یہ فریقین کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات شروع کرنے سے قبل اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں۔
