شہید حبیب جالب بلوچ

شہید حبیب جالب بلوچ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

تحریر:-میرعبدالرؤف مینگل

شہیدحبیب جالب بلوچ
آہ جالب سلام جالب
حبیب جالب شہیدجالب
شہیدگل زمین حبیب جالب بچپن سےعلم وقوم دوست نظریہ رکھتےتھےذہنی صلاحیتیں بچپن سےتعلیمی قابلیت کاخزانہ سےلیس تھااورزمانہ طالب علمی سےحصول علم کے ساتھ ساتھ شعوری سیاسی جدوجہدمیں بھی پیش رہےبلوچ قوم کی بدحالی پسماندگی حقوق سےمحرومی اورقومی جدوجہد کوریاستی جبر ناانصافیوں کےخلاف منظم کرکے نوجوانوں کو علمی طورپرلیس کرکےان کوشعوری بنیادوں قومی سیاسی حالات سےاپنی قومی وطنی شناخت بین الاقوامی چیلنجزکےلئےتیارکیاسیاسی سفرمیں بی ایس اوکےمرکزی سیکرٹری جنرل وچئیرمین رہےبلیک یعنی ڈیتھ وارنٹ سمیت مقدمات میں رہےافغانستان میں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنےکےبعدمزیداعلٰی تعلیم حاصل کرنےکےلئےروس چلےگئےبلوچستان وبلوچ قومی مسائل پرکتابیں بھی لکھی یہاں آکرایل ایل بی فرسٹ پوزیشن کےساتھ پاس کرکےاپنی ذہانت کاعملی ثبوت پیش کردیانوجوانوں کوفعال ومتحرک بنانےکےلئےپی وائی ایم پروگریسویوتھ مومنٹ بنایاقومی یکجہتی کے فروغ کےلئےاتحادومشترکہ جدوجہدکےلئےبی این ایم سرداراخترجان مینگل کےساتھ انضمام کیااورقومی کونسل سیشن میں مرکزی سیکرٹری جنرل کےعہدےپرمنتخب ہوئےجوشہادت تک اس اہم عہدےپررہےسینٹ کےنشست پرسینٹربھی رہےعلمی طورپرسیاست کوقومی ضرورت اورتبدیلی کاپیش خیمہ سمجھتےتھےترقی پسندانہ سوچ کوپروان چڑھایاپارٹی کوفعال رکھنےکےلئےضلعوں کےتنظیمی دورےکرتےاوردوستوں کو متحرک رکھنےاورپارٹی کوفعال رکھنےکےلئےدورےشیڈول کرتےاورمشاورت کےلئےضرورقریب رہتےتربیتی عمل کوسرکل وسیمیناراورورکشاپ جو دنوں پرمحیط رکھتےجس سے نوجوانوں کوعلمی شعوری مددملتےمختلف موضوعات پرمزاکرےرکھتےلشکربلوچستان پرامن ریلی گوادرکےلئےکسی بھی طرح گوادرپہنچنےمیں کامیاب ہوئےکیونکہ ریلی کوروکنےکےلئےسخت انتظامات تھےسرداراخترجان اور مجھےساکران میں نظربندکیاگیامشرف رجیم پوری سرکاری مشنری کےساتھ نواب بگٹی کی شہادت کے بعدبی این پی کےخلاف اعلان جنگ کرچکاتھا توشہیدحبیب جالب بلوچ اکبرمینگل اورمحمدحسن مینگل کوگوادرسےگرفتارکرکےگڈانی جیل منتقل کردیاگیاایک ماہ بعدلورالائی جیل منتقل کیاگیاسرداراخترجان مینگل اورمجھےساکران حب میں نظربندکردیاگیاجسےبعدمیں سب جیل قراردیکرملاقاتوں پرپابندی عائدکردی گئی ایک ماہ بعدمجھےگڈانی جیل منتقل کرنےکےلئےحکام آئےسرداراخترجان مینگل بضدرہےکہ رؤف مینگل کواکیلےجانےنہیں دونگامجھے بھی ساتھ لےجاؤحکام نےمعزولی ظاہرکی پھرمجھےگڈانی جیل منتقل کیاگیااسی رات مجھےکوئٹہ کاکہہ کرژوب منتقل کیاگیاشہیدحبیب جالب بلوچ کی شوگرزیادہ ہونےکےباعث طبیعت جزیادہ خراب تھاجنکاعلاج جیل ڈاکٹرسےکرایاگیاجالب صاحب کوہمارےساتھ جیل میں ملاقات کی پابندی اورسختی کاعلم ہواتواس نے اپنےکزن حاجی ابراہیم کوہمارےپاس کسی بھی طرح ملاقات کرکےاحوال لانےکےلئےبھیجاخرابی صحت کےباعث شہیدکوکوئٹہ جیل وارڈمنتقل کیاگیاجیل میں دوران اسیری کتاب بھی تحریرکیاشہیدباصلاحیت انسان تھامستقل مزاجی کےساتھ ساتھ نظریاتی بنیادوں پرپارٹی کوچلارہےتھےشہیدحبیب جالب بلوچ سمیت سوسےزیادہ پارٹی عہدیداروں کوبھی شہیدکیاگیااستمام مراحل میں پارٹی کاایک کرکن بھی پارٹی سے منحرف نہیں ہواان کی سیاسی گرفت اورثابت قدمی کوریاست کمزورنہ کرسکےشہیدحبیب جالب کوشہیدکرنےکی ریاستی چال کامیاب ضرورہوئی ہمیں ان کی جسمانی جدائی سےتکلیف ضرورپہنچی لیکن جالب صاحب ایک تناوردرخت کی شکل میں اپنی سیاسی جڑیں پوری طرح پھیلاکراپنی فکری حلقےکوپھیلاچکاتھاان کی نظریاتی وراثت اب بھی بھی بلوچستان میں سیاسی نشونمابڑھارہی ہےکہ دس سال ہوئےہم سے جداہیں لیکن ان کی افکاراورسیاست میں احساس اب بھی تازہ ہےان کےنقش قدم پرفعال ومتحرک سہاسی نظریات کی پرچارجاری ہےان کی برسی پربلوچستان میں سیاسی نقل وعمل ہمیشہ ان کی یادکوتازہ کرکےبلوچستان کی قومی جدوجہدمیں نظریات اورفکرکی ہواچلادیتاہےوہ قوتیں جالب کوجداےوکرسکےلیکن ان کی سیاسی وراثت میں شامل سیاسی علمی عمل سے لیس کاروان کوختم دورکمزوربھی نہ کرسکاکوئٹہ میں رہنےوالےجالب اب نظریہ بنکربلوچستان سمیت دیگرممالک میں ان کی برسی پرتعزیتی جلسوں وکانفرنسوں کی انعقادایک سوچ بن چکی ہےجسےروکناکممکن نہیں شہیدحبیب جالب نےاپنافرض نبھادیاجورہتی دنیاتک ہرچودہ جولائی یاد کی جائے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!