لاہور:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے ہمارے گلے اور شکوے ہیں ،آج میڈیا کا دورہ ہے اور قوم جانتی ہے کس کی کیا مجبوریاں اور مصلحتیں ہیں ، ہم نے کبھی بھی اپنی جدوجہد کو ترک نہیں کیا اور مولانا فضل الرحمان کی حالیہ ملاقاتیں اسی جدوجہد کا تسلسل ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے کہا کہ ہم پارلیمانی نظام میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہوئے اور ہماری تعداد 15ہے اور جو تعداد میں ہم سے کافی زیادہ ہیں انہیں ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ،زرداری صاحب کے بھی مسائل ہیں ،نواز شریف بھی تشریف لے گئے ہیں ،شہباز شریف نے کہا تھاکہ اے پی سی بلائیں گے لیکن انہوں نے اے پی سی بلانے کی زحمت کی اور نہ وعدے کے مطابق تشریف لائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود جمعیت علمائے اسلام اپنے پروگرام کے تحت آگے بڑھ رہی ہے اورکوشش ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیںایک پیج پر آئےں اور اپنا کردار ادا کرےں۔ دھرنا ختم کرنے اور چوہدری برادران کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گفت و شنید کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا، ہم نے اپنا موقف واضح کیا ہے اور ہمارے لئے حقائق عوام کے سامنے رکھنا کوئی دشوار نہیں ۔ ہم نے ایک منوا لی ہے کہ غلطی ہوئی ہے اور غلطی کو سنوارا جائے گا ،بجٹ کے بعد کی بات کی گئی تھی ،مارچ تک کی بات طے ہوئی تھی ،جو ہم بات کہتے تھے جس کےلئے ہم میدان میں نکلے اور قدم اٹھایا اس میں حقائق تھے جس کو تسلیم کیا گیا ہے اوریہ جمعیت علمائے اسلام کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مسلم لیگ (ن) سے گلے شکوے ہیں اوراس کا بر ملا اظہار بھی کیا ہے ۔ اپوزیشن کی دوسرے جماعتوں کی جو پوزیشن ہے اس پر ہمارے دوست نظر نہیں آتے ،ان کی سیکنڈ اورتھرڈ لائن قیادت سامنے ہے ،جو صورتحال سامنے آئی ہے اس میں نواز شریف کی روانگی اور پھر وہاں رہنا ہے ،شہباز شریف کے معاملات اوریہ تمام باتیں قوم کے سامنے ہیں ،آج میڈیا کا دور ہے اور ہر ایک با خبر ہے کہ کس کی کیا مجبوریاں ہیں اور مصلحتیں ہیں۔
