کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے آئندہ مالی سال 2020-21ءکی پی ایس ڈی پی کی جانچ پڑتال اور جائزہ لینے کیلئے کمیٹی قائم کردی ،کمیٹی کے سربراہ سی ایم آئی ٹی کے چیئرمین جبکہ دوممبران حکومت اوردوممبران اپوزیشن سے ہوںگے،صوبائی سیکرٹریز خزانہ ،لاءاور چیف اکنامسٹ بھی کمیٹی کے ممبران ہوںگے ،کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ مرتب کرکے عدالت میں پیش کریگی ۔گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس نذیراحمد لانگو پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے اپوزیشن اراکین اسمبلی کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کی ۔سماعت کے موقع پر درخواست گزار قائد حزب اختلاف ملک سکندرایڈووکیٹ،ملک نصیراحمدشاہوانی ،ثناءبلوچ، اخترحسین لانگو،میرزابد ریکی ،عبدالواحد صدیقی ،نصراللہ زیرے ،صوبائی وزراءمیرظہوربلیدی ،انجینئر زمرک خان اچکزئی ،وکلاءساجدترین ایڈووکیٹ ،منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ ،نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ،سید باسط شاہ ایڈووکیٹ ،ملک منیرکاکڑ ایڈووکیٹ،اور غنی مینگل ایڈووکیٹ ،ایڈووکیٹ جنرل ارباب طاہر ایڈووکیٹ ودیگر عدالت کے روبرو پیش ہوئے ۔سماعت کے دوران ڈویژنل بینچ نے آئندہ مالی سال 2020-21ءکی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام(پی ایس ڈی پی )سے متعلق سی ایم آئی ٹی کے سربراہ سجاد احمد بھٹہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی جس میں حکومت کی طرف سے دوممبران میرظہور احمد بلیدی ،انجینئر زمرک اچکزئی ،اپوزیشن کی طرف سے ملک سکندرایڈووکیٹ ،ملک نصیراحمد شاہوانی کے علاوہ صوبائی سیکرٹری خزانہ ،سیکرٹری لاءاور چیف اکنامسٹ بھی کمیٹی میں شامل ہوںگے ،کمیٹی آئندہ مالی سال 2020-21ءکی پی ایس ڈی پی کاجائزہ لے گی کہ پی ایس ڈی پی میں شامل کئے گئے منصوبے سپریم کوٹ آف پاکستان ،بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات اور پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے گائیڈ لائنز کے برعکس تو نہیں ،کمیٹی ایک ہفتے کے اندر اپنی تحریری رپورٹ مرتب کرکے عدالت میں جمع کرائے گی جس کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ رپورٹ کاجائزہ لیکر فیصلہ کریگی ۔





