نجی ہسپتالوں ‘اداروں ‘جنرل سٹورز جن کی کئی منزلہ عمارتیں ہیں کا تازہ سروے کیا جائے ‘ بلوچستان ہائی کورٹ

نجی ہسپتالوں ‘اداروں ‘جنرل سٹورز جن کی کئی منزلہ عمارتیں ہیں کا تازہ سروے کیا جائے ‘ بلوچستان ہائی کورٹ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مبنی دو رکنی بینچ نے بلڈنگ کوڈ سے متعلق دائر کیس کی سماعت کی دوران سماعت کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ میں اونچی عمارتوں کی تعمیر سے متعلق ایگزیکٹو آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ ہمراہ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے جامع رپورٹ عدالت عالیہ کے DB1 میں جمع کرائی جا چکی ہے انہوں نے عدالت سے جامع رپورٹ اور متعلقہ ریکارڈ جمع کرانے کے لئے مزید وقت کی درخواست کی جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ہمرا ہ لیفٹیننٹ کرنل شاہجہان نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ بلڈنگ کوڈ کے حوالے سے ترمیم کٹوٹمنٹ بورڈ میں زیر غور ہے جس پر قانون سازی ہونا باقی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقہ میں اونچی عمارتوں کی تعمیر کنسلٹنٹ کی تجویز پر کی گئی ہیں اور یہ سولجر ویلفیئر آرگنائزیشن کوئٹہ کی زیر سرپرستی تعمیر کی گئی ہیں اور ان پروجیکٹس کی تمام تر آمدنی مسلح افواج کے سپاہیوں اور شہداءکے خاندانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن یہ بات بھی ریکارڈ پر لائی جا چکی ہے کہ اب تک کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی پرائیویٹ کنسلٹنٹ کی رائے کو اہمیت دی گئی ہے لہذا عدالت صورتحال کو دیکھتے ہوئے سی ای او کنٹو نمنٹ بورڈ کو حکم دیتی ہے کہ وہ ان پراجیکٹس کی قانونی حیثیت سے متعلق عدالت کو مطمئن کرنے کی غرض سے جامع رپورٹ جمع کرائے جبکہ جج ایڈووکیٹ جنرلJAGبرانچ بھی اپنی رپورٹ پیش کرےاس موقع پر ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ طارق مینگل نے عدالت میں کوئٹہ شہر میں فعال ہسپتال ان میں موجود سہولیات اور پارکنگ کی موجودگی کے حوالے سے لسٹ جمع کرائیں معزز عدالت کو ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ نئی بلڈنگ کوڈ کے حوالے سے مجوزہ مسودہ محکمہ قانون کی متعلقہ کمیٹی کے پاس زیر غور ہےدرخواست گزار نے اس موقع پر نشاندہی کرتے ہوئے معزز عدالت کو بتایا کہ اس طرح کا بیان پہلے بھی اس وقت کے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے عدالت کی DB1 میں دیا گیا تھاکہ مجوزہ بل کابینہ میں پیش کرنے کے لیے تیار ہے جو کہ بعد ازاں صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا بلکہ بلا کسی قانون کے شہر بھر میں کنکریٹ کی عمارتوں کا جنگل کھڑا کر دیا گیا جسے بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے ہے اس موقع پر اے اےجی نے عدالت کے سوالات کے تسلی بخش جواب کے لیے متعلقہ ریکارڈ اور اورDB1 کے حکم نامہ جمع کرانے کے لیے وقت مانگا جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کے استفسار پر بتایاکہ ڈائریکٹر ملٹری لینڈ سرکاری مصروفیات کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے لہذا انہیں عدالت میںآئندہ پیشی کیلئے موقع دیا جائے درخواست گزار ہمراہ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مین زرغون روڈ پٹیل روڈ اور سٹی ٹا¶ن میں واقع نجی ہسپتالوں میں پارکنگ کی سہولیات موجود نہیں ہیں اور مذکورہ ہسپتال عوامی راستوں اور سڑکوں کو پارکنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ انہوں نے پرائیویٹ سکیورٹی کارڈ بھی تعینات کیے ہیں جو عام افراد کو پارکنگ سے منع کرتے ہیں انہوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کے حوالے سے اپنی درخواست میں ترمیم کی بھی اجازت طلب کی جو معزز عدالت کی جانب سے دے دی گئی معزز عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر ایم سی کیو اور انجینئرنگ برانچ کو حکم دیا کہ وہ شہر میں واقع ایسے تمام نجی ہسپتالوں اداروں اور جنرل سٹورز جن کی کئی منزلہ عمارتیں ہیں ان کا تازہ سروے کرے عدالت نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی ٹریفک کو بھی حکم دیا کہ وہ اس سروے میں ایڈمنسٹریٹر ایم سی کیو کے ساتھ رہیں اور شہر بھر میں جہاں بھی پارکنگ ایریاز کو دکانوں اور گوداموں میں تبدیل کیا گیا ہے انہیں فورا پارکنگ بنائیں اور کسی بھی مذمت کی صورت میں ان عمارتوں کو سیل کر دیا جائے عدالت نے ایس ایس پی ٹریفک کو حکم دیا کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی چاہے جتنا بھی با اثر ہو اسے نو پارکنگ زون میں گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ ٹریفک کے دبا¶ کو بالخصوص رش آورز میں کم کیا جا سکے اسی طرح ایس ایس پی ٹریفک سڑک کے اطراف میں رکشہ اور گاڑیوں کی پارکنگ کی بھی اجازت نہ دیں جو کہ پسنجرز کے انتظار میں اپنی گاڑیاں پارک کر لیتے ہیں معزز عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ڈی ایس ریلوے کے ساتھ فوری میٹنگ کی بھی ہدایت کی تاکہ ریلوےاسٹیشن کے اطراف اور بالخصوص زرغون روڈ پر پارکنگ کے انتخاب کے لیے میکنزم تشکیل دیں عدالت نے ایس ایس پی ٹریفک کو اسپیشل سرولینس ٹیم بنانے کی بھی ہدایت کی جو شہر کے دبا¶ والے علاقوں میں عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ایڈمنسٹریٹر کوئٹہ کوحکم دیا کہ وہ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کوئٹہ پاکستان ریلوے سے کے لیے این او سی کے اجرا کے لیے کہے تاکہ زرغون روڈ تا جوائنٹ روڈ براستہ دوکانی بابا چوک ریلوے ٹریک کی کراسنگ پر ایم سی کیو فوری طور پر ڈرینچ تعمیر کر ے معزز عدالت نے حکم کی کاپی درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ جنرل ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلوے کوئٹہ ڈی آئی جی ایس ایس پی پی ٹریفک اور ڈی سی کوئٹہ کو عملدرآمد کیلئے ارسال کرنے کے لیے کہا اسی طرح سیکرٹری لا و پارلیمانی امور اور اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو بھی کاپی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بلڈنگ کورٹ کے مجوزہ مسودہ بل کی فائل کے ساتھ پیش ہونے کے احکامات دیے اور مذکورہ تمام اہلکاران کو آئندہ پیشی پر حاضر رہنے کی بھی ہدایت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!