احساس محرومی ‘ ناانصافیوں کے خاتمے ‘ مکران ڈویژن کو نیشنل گرڈ سے منسلک‘ زرعی ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم پر منتقلی کیلئے اقدامات کئے جائیں ‘ آغا حسن بلوچ

احساس محرومی ‘ ناانصافیوں کے خاتمے ‘ مکران ڈویژن کو نیشنل گرڈ سے منسلک‘ زرعی ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم پر منتقلی کیلئے اقدامات کئے جائیں ‘ آغا حسن بلوچ

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

اسلام آباد : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات چیئرمین قائمہ کمیٹی آغا حسن بلوچ قومی اسمبلی میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان وسیع و عریض سرزمین زراعت کی ترقی کیلئے کسی بھی حکومت نے اقدامات نہیں کئے جس سے بلوچستان کے زمیندار ‘ کاشتکار مستفید ہو سکیں ماضی اور حال میں ایسا کوئی اقدام نہیں آیا جس سے زراعت سے وابستہ لوگ مستفید ہو سکے پنجاب ‘سندھ میں نہریں نظام ہے جس سے کسانوں کو پانی وافر مقدار میں مل رہی ہے لیکن بلوچستان میں صرف ایک ڈویژن نصیر آباد میں نہری نظام ہے لیکن وہاں پر بھی محکمہ ارسا پانی کی فراہمی اور بلوچستان کا حصہ ہے اس کو چرایا جا رہا ہے بلوچستان میں ارسا کا کوئی نمائندہ نہیں بلوچستان حکومت تو کافی کمزور مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہونی چاہئے کہ وہ بلوچستان سے ارسا کے نمائندے کا انتخاب کیا جائے بلوچستان میں 29ہزار زرعی ٹیوب ویلز ہیں ماضی کی حکومتوں نے پالیسی بنائی گئی کہ بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم میں تبدیل کیا جائے جس سے یقینا زمینداروں کو فائدہ ہو گا لیکن سولر سسٹم کے منصوبے میں سستی روی دکھائی دے رہی ہے واپڈا کو ہدایات جاری کی گئیں کہ زرعی ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم میں تبدیل کیا جائے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بلوچستان میں جاری ہے اکیسویں صدی میں بھی مکران ڈویژن جہاں سی پیک بننے جا رہے ہیں لیکن مکران ڈویژن میں بھی نیشنل گرڈ سے عوام کو بجلی فراہم نہیں کی جا رہی گوادر ‘ جیونی ‘ تربت ‘ پنجگور کے علاقوں کو نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں کیا گیا بجلی دی جا رہی ہے وہ بھی ایران سے ہے ٹرانسمیشن لائنیں اتنی کمزور کہ بجلی کی فراہمی نہیں ہو سکتی عمرایوب سے گزارش ہے کہ مکران ڈویژن کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا جائے بلوچستان کی بنجر زمینوں کو آباد کرنے کیلئے زرعی انقلاب برپا کر کے پیکیج کا اعلان کیا جائے زمینداروں کو سپورٹ کیا جائے اور بنجر زمینوں کو آباد کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں زرعی بینک کی جانب سے دیئے جانے والے قرضوں کو زمیندار واپس کرنے سے قاصر ہیں زمینداروں کیلئے مثبت پالیسی بنائی جائے تاکہ زمینداروں پر بوجھ کم ہو سکے زراعت سے گلہ بانی بھی وابستہ ہے بلوچستان میں روزگار کی سہولیات نہیں ہیں بلوچستان کے عوام کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے احساس محرومی ‘ ناانصافیاں بڑھتی جا رہی ہیں بلوچستان کے مخصوص حالات ‘ شورش کے خاتمے بلوچستان کو لوگ کو ہر شعبے میں سہولیات اور ریلیف دیا جائے انقلابی اقدامات سے بھی بلوچستان کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں بحر بلوچ میں ماہی گیری کو فروغ دینے اور مکران ڈویژن تربت ‘ پنجگور ‘ ماشکیل سمیت دیگر علاقوں میں بہترین کھجورکے باغات ہیں ان کی برآمدگی کیلئے اقدامات کئے جائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!