بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری نے صوبے میں زبانی امتحانات کے اعلان کومسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ جامعہ بلوچستان کی طرف سے زبانی امتحانات کااعلان کسی مذاق سے کم نہیں ،وسائل اور سہولیات کے فقدان کے باعث طلباء وطالبات آن لائن کلاسز سے محروم جبکہ یونیورسٹیاں حقائق جاننے کے باوجود ایسے فیصلے طلباء وطالبات پرمسلط کررہے ہیں جو قابل عمل بھی نہیں ہے ،،اپنے جاری کردی بیان میں انہوں نے کہاکہ ایسی صورتحال میں جب طلباء وطالبات انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ سے آن لائن کلاسز سے محروم ہیں تو پھر زبانی امتحانات کس طرح دے سکیںگے ،بغیر کسی میکنزم کے بلوچستان کے طلباء وطالبات پر من مانے فیصلے مسلط کرنا ان کے مستقبل کے ساتھ سنگین مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں ،بلوچستان کے تعلیم کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کیلئے حکومت وقت سنجیدہ نہیں ہے نہ صوبے کے نوجوانوں کی تعلیم کومحفوظ بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس کی ہم شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،ہائیرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بغیر کسی لائحہ عمل اور صوبے کی زمینی حقائق کے برعکس فیصلے مسلط کرنا سراسر ناانصافی ہے ،اس سلسلے میں ہم کسی صورت خاموش نہیں رہیںگے ،بلوچستان کے طلباء وطالبات نے اپنے حق کیلئے آواز بلند کی تو حکومت بلوچستان کی ایماء پر پولیس کی جانب سے ان پر بہیمانہ تشدد کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی لیکن طلباء وطالبات کے احتجاج کے باوجود حکمران طلباء کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے ،حکمرانوں کی جانب سے مسائل کے حل صرف اعلانات تک محدود ہے صوبے میں تعلیم کا شعبہ پہلے سے زبوں حالی کاشکارہے حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ہم مزید پیچھے چلے جائیںگے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی ،18ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا محکمہ بلوچستان حکومت کے انڈر ہے مگر آج بھی صوبے میں تعلیم کے حوالے فیصلے کیلئے وفاق کی طرف دیکھاجارہاہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ حکمران عوام کو ریلیف اور الیکشن میں کامیابی کیلئے تبدیلی کے نام پر عوام کے اعتماد پر پورے نہیں اتر سکیں ،انہوں نے مطالبہ کیاکہ فوری طورپر بلوچستان کے طلباء وطالبات کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں بصورت دیگر بلوچستان نیشنل پارٹی اس سلسلے میں صوبے کی تعلیم پر کوئی کمپرومائز نہیں کریگی اور اس کے خلاف ہرپلیٹ فارم پر جدوجہد اورآواز بلند کریگی ۔






