کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر ) بی این پی کے اخترحسین لانگو نے کہاکہ ٹڈی دل حملوں نے بلوچستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے حکومت کی جانب سے اب تک ان نقصانات کے ازالے کے لئے کوئی پالیسی ہی سامنے نہیں آئی تاکہ زمینداروں کو دوبارہ ان کے پیروں پر کھڑا کیا جاسکے انہوںنے بجلی کی طویل لوڈشےڈنگ کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے کیسکو کی جانب سے بجلی کے نظام میں بہتری کیلئے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے اوور لوڈ ہوکر ٹرانسفارمرز خراب ہورہے ہیں اور لوگ کئی دنوں تک بجلی سے محروم رہتے ہیں انہوںنے کہا کہ شیخ ماندہ میں قائم ورکشاپ میں بلوچستان کے اکثر اضلاع سے خراب ٹرانسفارمرز مرمت کے لئے لائے جاتے ہیں وہاں پندرہ پندرہ بیس بیس روز تک ٹرانسفامرز مرمت کے لئے پڑے رہتے ہیں انہوںنے بجلی کے نئے فیڈرز کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اوور لوڈ فیڈرز کو تقسیم کیا جائے تاکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جاسکے صوبائی وزیر خزانہ کو چاہئے کہ ٹف ٹائل ، روڈوں کی اکھاڑ پچھاڑ اور کوئٹہ پیکج کے نام پر خطیر رقم ضائع کرنے کی بجائے اس رقم سے کیسکو کو واجبات کی ادائیگی کریں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جاسکے۔ انہوںنے ایم ایس ڈی کو مسائل کا جڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ادویات کی پرچیزنگ کا اختیار نچلی سطح پر منتقل کرے انہوںنے سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابق وفاقی وزیر آیت اللہ درانی مرحوم جب فاطمہ جنا ح ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج تھے تو اس وقت وہاں وینٹی لیٹر کو آپریٹ کرنے کے لئے عملہ موجود نہیں تھا مریضوں کے عزیز و اقارب اور تیماردار خود مریضوں کی دیکھ بھال کررہے ہیں جبکہ ڈاکٹرز میسجر کے ذریعے مریضوں کو ادویات تجویز کررہے ہیں بلوچستان کے لوگ خط غربت سے نچلی زندگی گزار رہے ہیں ایسے میں ان کے لئے علاج معالجے کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں انہوںنے زرعی اجناس کی سمگلنگ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ممالک کی پالیسی یہ ہے کہ جب بھی مقامی پیداوار تیار ہوتی ہے تو امپورٹ روک دی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے الٹ ہورہا ہے جب ہماری مقامی فصل تیار ہوتی ہے تو امپورٹ کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے جس سے زمینداروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوںنے اسمبلی کی قرار دادوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی اہمیت اورافادیت سپیکر کے ہاتھ میں ہے ہا?س کی ایک عملدرآمد کمیٹی ہے کہ ہا?س سے جاری احکامات اور قراردادوں پر کس حد تک عملدرآمد ہورہاہے وفاقی وصوبائی سطح کے قراردادیں جو بلوچستان اسمبلی سے پاس ہوئی ہیں ان کا فالو اپ دیکھا جائے کہ ان پر کس قدر عملدرآمد ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کی جانب سے سیندک ودیگر معاملے کو سنجیدہ لیاجاتا تو آج یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث ہی نہ آتا ایک دستاویز کو لاکر حکومت کے سامنے رکھاگیا اور اس نے دستخط کرکے ایک بارپھر سیندک پروجیکٹ کو 15سال کے من وعن ان کے حوالے کردیا ،سیندک پروجیکٹ کے قوانین کے مطابق پروجیکٹ پردن کی روشنی میں مائننگ کی جاسکتی ہے رات کی تاریکی میں مائننگ کرنے کاکوئی قانون موجود نہیں مگر سیندک میں دن رات مائننگ ہوتی رہی ہے یہ بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے کمپنی سے کبھی اس بارے میں پوچھا ہی نہیں انہیں فری ہینڈ دے دیا گیا کہ وہ جتنی چاہیں معدنیات نکال کر لے جائیں۔انہوںنے کہا کہ سونے اور چاندی کے علاوہ سیندک میں ایسی بھی معدنیات موجود ہیں جن کی قیمت سونے اور چاندی سے بہت زیادہ ہے آج تک کسی نے ان سے کچھ پوچھا نہ ہی ہمارے پاس کوئی تفصیل ہے کہ سیندک سے کس مقدار میں معدنیات نکالی گئی ہیں انہوںنے کہا کہ مذکورہ کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ وہ مقامی افراد کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات اٹھاتی لیکن آج تک کمپنی نے علاقے کے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ چار ماہ قبل صوبے میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کی فراہمی کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن آج تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی انہوںنے کہا کہ بلوچستان میں مارچ اور اپریل کے مہینوں میں بہت سے لوگ بیمار ہوئے انہوں نے خود ادویات خرید کر اپنا علاج کرایا حکومت کی جانب سے انہیں ایک پینا ڈول کی گولی تک فراہم نہیں کی گئی بلوچستان میں کورونا وائرس کی روک تھام صرف اخباری بیانات تک محدود ہے اسمبلی کو بتایا جائے کہ کورونا وائرس کی مد میں اب تک صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے کتنی رقم کہاں خرچ کی وفاق سے صوبے کو کیا کچھ ملا ، این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم اے کو کیا کچھ دیا ڈونرز ایجنسیز نے جو امداد دی وہ کہاں خرچ ہوئی۔
