راولپنڈی:بھارتی فوج نے ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایل او سی پر بلاشتعال فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں نوجوان زخمی ہوگیا، پاک فوج کی جانب سے موثر جوابی کارروائی کے بعد بھارتی توپیں خاموش ہوگئیں ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی پر باغ سیکٹر میں آبادی کو نشانہ بنایا جہاں بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں نوجوان شدید زخمی ہوگیا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج کی فائرنگ سے مٹیکا گاو¿ں کا 20 سال کا نوجوان شدید زخمی ہوا جسے فوری طبی امداد کےلئے قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا اور بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد بھارتی تو پیں خاموش ہوگئیں بھارتی سفارتخانے کے سینئر سفارتکار کو پیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے قابض بھارتی فوج کی جانب سے 20 جولائی 2020 کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری کے زخمی ہونے پر شدیداحتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے بلااشتعال اور بلاامتیاز فائرنگ کے نتیجے میں ’ایل۔او۔سی‘ کے باگسر سیکٹر میں 20 سالہ معین اختر ولد محمد اختر سکنہ گاو¿ں مہتیکا شدید زخمی ہوگیا۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارتی قابض فوج ’ایل۔او۔سی‘ اور ’ورکنگ۔باونڈری‘ پر عام شہری آبادی کو آرٹلری اور بھاری وخودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنارہی ہے۔ رواں برس 2020ئ میں بھارت نے 1732 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جس کے نتیجے میں 14 بے گناہ شہری شہید اور 134 شدید زخمی ہوئے۔ قابض بھارتی افواج کی جانب سے بے گناہ شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ بے حسی پر مبنی یہ اقدامات 2003 کے جنگ بندی معاہدے، انسانی عظمت ووقار، بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین اور پیشہ وارنہ فوجی طرز عمل کے برعکس اور اس کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں ایل او سی پر کشیدگی بڑھانے کی مسلسل بھارتی کوششوں کا مظہر اور خطے کے امن وسلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر کشیدگی میں اضافہ کے ذریعے بھارت اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ پاکستان نے بھارت پر زوردیا کہ 2003 کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے ،’ ایل اوسی ‘ اور ’ورکنگ باونڈری‘ پر امن قائم کرے۔ زوردیاگیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دے
