اسلام آباد: وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما سینیٹر فروغ نسیم نے تیسری مرتبہ بطور وفاقی وزیر حلف اٹھالیا ہے ۔ حلف برداری کی تقرےب جمعہ کو اےوان صدر مےں ہوئی جہاں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے ان سے حلف لیا جس کے بعد فروغ نسیم نے پھر کابینہ کا حصہ بن گئے۔بیرسٹر فروغ نسیم کو تیسری مرتبہ وفاقی وزارت قانون کا قلمدان سونپا گیا ہے ۔فروغ نسیم نے پہلی بار اس وقت استعفی دیا تھا جب سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت نے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔فروغ نسیم نے کیس مکمل ہونے پر دوبارہ وفاقی وزیر کا حلف اٹھایا تھا تاہم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس پر جب درخواست دائر کی تو لارجر بینچ کے سامنے فروغ نسیم نے دوبارہ اپنا وزارت سے استعفی دے کر حکومتی وکیل کے طور پر دلائل دیے تھے۔واضح رہے کہ اس سے قبل بیرسٹر فروغ نسیم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع جبکہ ایک بار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں حکومت کی جانب سے بطور وکیل پیش ہونے کے لئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور آرمی چیف کی مدت ملازمت کا معاملہ سپریم کورٹ میں منطقی نتیجے پر پہنچنے کے بعد وہ اپنے عہدے پر واپس آگئے تھے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں حکومت کی نمائندگی کرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنے عہدے کا حلف تو اٹھالیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد کیس سپریم کورٹ میں دوبارہ سماعت کے لئے مقرر ہونے پر انہیں ایک بار پھر وفاقی وزارت قانون چھوڑنا پڑی اور چند روز قبل سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا لعدم قرار دینے اور اثاثہ جات کا معاملہ مزید کاروائی کے لئے ایف بی آر کو بھیجے جانے کے بعد کیس ختم ہو گیا تھا جس کے بعد بیرسٹر فروغ نسیم تیسری بار وفاقی وزیرقانون کے عہدے کا حلف اٹھایا۔
