چاغی(نامہ نگار) حکام کے دعوے دھرے کے دھرے ہی رہ گئے ۔ ڈھائی سال کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود چاغی ٹو گردی جنگل سڑک کی تعمیر و مرمت نہ ہوسکی ۔تفصیلات کے مطابق چاغی ٹو گردی جنگل سڑک جو کہ 30 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مشتمل ہے مگر حکام کی غفلت اور لاپرواہی کے سبب ڈھائی سال کا طویل عرصہ گذرنے کے باوجود سڑک کی تعمیر و مرمت نہ ہوسکی حالانکہ مذکورہ سڑک کی تعمیر و مرمت کے ٹینڈرز ہوچکے ہیں ٹھیکیدار کو فنڈز بھی جاری ہوچکے ہیں مگر کوئی بھی نوٹس لینے والا نہیں چاغی ٹو گردی جنگل سڑک کی تعمیر و مرمت میں تاخیر سے نہ صرف عام مسافروں بلکہ ٹرانسپورٹرز اور زمینداروں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وقت پر گاڑیاں نہ پہنچنے سے مسافروں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اسی طرح زمینداروں کے سبزیاں ۔پھل اور دیگر اجناس بھی مارکیٹ میں بروقت نہ پہنچنے سے مشکلات درپیش رہتی ہیں اسی طرح کچے راستوں پر سفر کے دوران مٹی اور دھول اڑجانے سے دمہ اور سینے کے امراض میں اضافہ ہوتا ہے اسی سڑک پر روزانہ کی بنیاد پر مسافر گاڑیوں کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں مال بردار چھوٹی بڑی گاڑیاں آتی جاتی رہتی ہیں مگر سڑک کی تعمیر میں تاخیر سمجھ سے بالاتر ہے سڑک کی ناگفتہ بہ حالت نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے چاغی کے عوامی وسماجی حلقوں نے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان سمیت دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ چاغی ٹو گردی جنگل سڑک کی تعمیر و مرمت میں تاخیر کا فی الفور نوٹس لے کر مذکورہ ٹھیکیدار اور متعلقہ حکام سے باز پرس کی جائے اور سڑک کی جلد از جلد تعمیر و مرمت کو یقینی بنائ جائے تاکہ عوام کو سفری مشکلات سے نجات مل سکے ۔





