ینگ ڈاکٹرز کاتوڑ پھوڑ میں تشدد کرنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ ‘ سروسز کے بائیکاٹ کی دھمکی

ینگ ڈاکٹرز کاتوڑ پھوڑ میں تشدد کرنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ ‘ سروسز کے بائیکاٹ کی دھمکی

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن بلوچستان ڈاکٹرز کو مبینہ طور پر زدوکوب کرنے ،ہسپتال میں توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذکورہ افراد کیخلاف24گھنٹوںمیں ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو ہم تمام سروسز سے بائیکاٹ کرینگے حکومتی غفلت کے باعث ڈاکٹرز خود کو دوران ڈیوٹی غیر محفوظ سمجھتے ہیں آئے روز ہسپتال میں پیش آنے والی حادثات کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے سیکورٹی ایکٹ نہ ہونے کی وجہ سے نتائج کی صورت میں ڈاکٹرز غیر یقینی صورتحال میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیںان خیالات کااظہار ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے صوبائی صدر ڈاکٹر یاسر اچکزئی نے ترجمان ڈاکٹررحیم بابر ،ڈاکٹر ارسلان،ڈاکٹر مالک اور ڈاکٹر سرفراز سمیت دیگر کے ہمراہ وائے ڈی اے ہاسٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ غیر یقینی صورتحال میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں میسر سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال گھمبیر تر ہورہی ہے سیریس مریض آتے ہیں اور جب مریض کو کچھ ہوتا ہے تو لواحقین کی جانب سے تمام نزلہ ڈاکٹرز پرا تار دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہفتے کو ایک مریض کو انتہائی سیریس حالت میں ہسپتال میں لا یا گیا جس کی دماغ کی شریان پھٹ چکی تھی اور ایسے میں 90سے 95فیصدمریض کا بچنا انتہائی نا ممکن ہوتا ہے مذکورہ مریض کی حالت سیریس تھی ڈاکٹرز اپنی تمام تر دستیاب وسائل میں ان کا علاج کیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے جس پر 40سے 50افراد نے ڈاکٹرز کو زدوکوب کر کے وارڈوں میں توڑ پھوڑ کی بلکہ نہ صرف وارڈز بلکہ ایم ایس اور ڈپٹی ایم ایس کے دفاتر بھی بند ہیں انہوں نے کہاکہ ان تمام تر صورتحال کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے سیکورٹی ا یکٹ اسمبلی میں موجود ہے مگر اس پرعملدرآمد نہیں ہورہا ہسپتال میں مسلح افرادکی موجودگی کے باوجود پولیس گرفتاری سے کترارہی ہے انہوں نے کہا کہ پہلے ہی دن سے ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے جس کی بارہا ہم نے آواز بلند کی حالانکہ علاج ومعالجہ ڈاکٹرز کا کام ہے جبکہ سہولیات کی فراہمی حکومت وقت کا کام ہے انہوں نے کہا کہ مذکورہ واقعے میں ہم انکوائری کیلئے تیار ہیں ڈاکٹرز کی غفلت پر ان کا دفاع نہیں کیا جائے گا لیکن ایسی صورتحال میں لواحقین نے ہسپتال میں خواتین ڈاکٹرزکو کمروں میں،ایم ایس اور ڈپٹی ایم ایس کے دفاتر کو بند کر رکھے ہیں انہوں نے کہا کہ محدود وسائل میں ڈاکٹرز اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں لیکن پر سکون ماحول نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز کیلئے کام انتہائی مشکل ہوتا ہے اگر حکومت کی جانب سے مذکورہ توڑ پھوڑ اور ڈاکٹرز کو زد وکوب کرنے میں ملوث افراد کو 24گھنٹوں میں گرفتار نہ کیا گیا تو ہم تمام تر سروسز سے بائیکاٹ کرینگے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!