اسلام آباد :وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم لاک ڈاو¿ن کیلئے دباو¿ کے باوجود اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے ،کورونا کی وجہ سے لاک ڈاﺅن کی بات کرنے والوں نے ہمیشہ غریبوں کا خون چوسا ہے،کورونا کی وجہ سے حکومت نے درمیانی رستہ اختیار کیا، وزیراعظم کی کوشش تھی غریبوں کا خیال رکھا جائے،اپوزیشن کی نیت ٹھیک نہیں تھی آج منہ چھپا رہے ہیں، اسمارٹ لاک ڈاوَن کی حکمت عملی کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی۔وہ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس ، وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمارا ملک مکمل لاک ڈاو¿ن کا طویل عرصے تک متحمل نہیں ہوسکتا تھا اس لیے قیادت نے فیصلہ کیا کہ ملک کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لاک ڈاو¿ن نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ قیادت نے فیصلہ کیا کہ غریب اور مزدور افراد کے لیے ایسی حکمت عملی بنائی کہ صحت اور روزگار ایک ساتھ چل سکیں جس پر بہت تنقید بھی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ لاک ڈاو¿ن کا مشورہ دے رہے ہیں سب جانتے ہیں کہ ان کا مقصد کیا ہے یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غریبوں کا خون چوسا تھا۔وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم پر لاک ڈاو¿ن کا بہت دباو¿ ڈالا گیا لیکن وہ اپنے فیصلے سے متزلزل نہیں ہوئے اور ہمارے اس فیصلے کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہیروز نے اپنی انتھک محنت سے اس مقام پر کھڑا کیا کہ آج دنیا ہمیں سراہ رہی ہے کیوں کہ جس بحران کا ہمیں سامنا تھا اس میں ہماری معیشت تباہ و برباد ہوسکتی تھی اور ملک میں خانہ جنگی ہوسکتی تھی لیکن ہماری خوراک کی فراہمی کا تسلسل تک نہیں بگڑا البتہ قیمتیں کم زیادہ ہوئیں جو اس طرح کے حالات میں معمول کی بات ہے۔وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس میں وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے اختیار کی گئیں تکنیک کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ درست حکمت عملی کے سبب آج محدود وسائل کے باوجود ہم وبا پر قابو پانے کی پوزیشن میں ہیں۔انہوںنے کہاکہ لوگ مشکل فیصلے کرنے سے ڈرتے ہیں لیکن ہماری حکومت نے مکمل شفافیت سے ایسے فیصلے کیے کہ جس سے عوام کی مشکلات کم ہوں۔انہوں نے کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے سے لے کر ویب سائٹ تک ہر کام اس طرح کیا کہ مکمل شفافیت اور احتساب یقینی ہو۔ انہوںنے کہاکہ آج کووِڈ کے باعث اموات اور متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔تانیہ ایدروس نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ طویل المدتی بنیاد پر فائدہ دینے والاکام کیا جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ صرف کووِڈ 19 کی وبا کے دوران وہ فائدہ مند ہوں اور بعد میں کارآمد نہ رہیں اور مستقبل میں کسی وبا کی صورت میں پہلے سے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ وقتی اور غیر حقیقی اقدامات پر انحصار کرنے کے بجائے ہم نے مستحکم فیصلہ سازی کو ترجیح دی جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کرنا ضروری تھا۔انہوں نے کہا کہ وبا کے سلسلے میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا قیام عالمی سطح پر ایک مثال بن گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور فوج نے ایک ساتھ مل کر فیصلے کیے۔تانیہ ایدروس نے کہا کہ یہ بہت ضروری تھا کہ ہم ریئل ٹائم ڈیٹا کی مدد سے درست فیصلہ کرسکیں اس کے لیے پہلا اور اہم قدم پورے ملک سے انتہائی اہم معلومات مثلاً ٹیسٹس کی تعداد مثبت آنے والے مریضوں کی تعداد، وینٹیلیٹرز کی دستیابی کے اعداد و شمار اکٹھے کرنا تھا۔انہوں نے کہا جب وبا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا ملک میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں تھا اور مجھے فخر ہے کہ این سی او سی کے تحت سب نے مل کر یہ نظام تشکیل دیا کہ جس کے ذریعے ملک بھر میں رپورٹنگ کی جارہی ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ ابتدا میں ڈیٹا کم ہونے کی وجہ سے ہم نے تخمینے لگانے شروع کردئیے تھے تا کہ ہمیں معلوم ہوں کہ ہمیں کن کن چیزوں کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے اور اس کے لیے ہم نے مختلف ماڈلز استعمال کیے گئے تا کہ ہماری تیاری مکمل ہوسکے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں دیگر ممالک کے برعکس جلد لاک ڈاو¿ن کردیا گیا تھا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ بلینکٹ پالیسیز پاکستان جیسے ممالک میں غیر مو¿ثر ہیں کیوں کہ عوام اور معیشت پر اس کا دباو¿ وہ طویل مدتی بینادوں پر سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا۔تانیہ ایدروس نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج یہ تھا ایسی حکمت عملی تجویز کی جائے کہ معیشت کا پہیہ بھی چل سکے، کورونا کا پھیلاو¿ روکا جاسکے، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور صوبوں کو وفاق سے مدد مل سکے چونکہ ہم اپنے وسائل محدود ہونے کی وجہ سے لاکھوں ٹیسٹ روزانہ نہیں کر سکتے تھے اس لیے ٹارگٹڈ ٹیسٹ کی حکمت عملی تشکیل دی اور ٹیسٹ ٹریس قرنطینہ (ٹی ٹی کیو) حکمت عملی ہمارے لیے لاک ڈاو¿ن کھولنے کی وجہ بنی۔معاون خصوصی نے کہا کہ اس حکمت عمل کا مقصد ان افراد کا ٹیسٹ کرنا تھا جو کورونا کے پھیلاو¿ کا ذریعہ بن سکتے تھے اور اس کو ٹارگٹڈ طریقے سے کرنے کے لیے متاثرہ افراد کے رابطوں کو ٹریس کرنا شروع کیا، کووِڈ 19 کی ہیلپ لائن قائم کی جس پر لاکھوں کالز آئی۔انہوں نے کہا کہ اس کی مدد سے بھی ہمیں معلوم ہوا کہ کن افراد میں کورونا کی علامتیں موجود ہیں، ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے ہم نے معلوم کیا کہ کن افراد میں علامتیں ہیں اور کن کو گھر جا کر ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے جن کو زیادہ خطرہ ہے۔تانیہ ایدروس کے مطابق ٹی ٹی کیو حکمت عملی کا اعلان 23 اپریل کو کیا گیا اور اب ایک تہائی ٹیسٹنگ ٹی ٹی کیو کے تحت کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ کورونا جاری تھا اور مزید کیسز آرہے تھے اس لیے ہماری کوشش تھی کہ انہیں اس طرح روکا جاسکے کہ دوبارہ لاک ڈاو¿ن کی جانب نہ جانا پڑے اور ہمارے پاس ریئل ٹائم ڈیٹا موجود تھا جس میں متاثرہ آبادیوں کے اعداد و شمار تھے چنانچہ ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے اسمارٹ لاک ڈاو¿ن تجویز کیا جس پر ہمیں فخر ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اس طریقہ کار کو اپنا اور آج اس نظام کی بدولت ہمیں دوبارہ مکمل لاک ڈاو¿ن کی جانب جانے کی ضرورت نہیں اور ہم اپنی معیشت کو بحالی جانب گامز کرسکے۔معاون خصوصی نے کہا کہ تمام فیصلوں اور اقدامات میں ڈیٹا کا کردار انتہائی بنیادی اہمیت کا حامل تھا جس میں ہمیں صوبوں کا بھی مکمل تعاون حاصل کیا اور آج محدود وسائل کے باوجود ہم اس وبا پر قابو پانے کی پوزیشن میں ہیں۔پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا وائرس ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ ہماری صورتحال کو جس طریقے سے بھی جانچا جائے وہ مہینہ ڈیڑھ ماہ قبل کی حالت سے بہت بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے کیسز، ہسپتالوں میں زیر علاج مریض، شرح اموات، ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح یہ تمام اعداد و شمار ایک ہی سمت کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کا وژن یہ تھا کہ ہمیں درمیانہ راستہ اختیار کرنا ہے جس میں بیماری سے بچاو¿ بھی ہوسکے اور کاروبار زندگی بھی چلتے رہیں اور اس راہ کی تلاش میں ڈیٹا اور دیگر اقدامات نے اہم کردار ادا کیا لیکن سب سے اہم این سی او سی کے تحت کیا جانے والا ٹیم ورک تھا۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ تمام وفاقی ادارے، صوبائی حکومتیں، سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ ساتھ جس طرح عوام نے مل کر کام کیا وہ ٹیم ورک کے لحاظ سے دنیا کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے دنوں میں عیدالاضحی، محرم الحرام آرہا ہے اور تعلیمی سرگرمیاں بھی بحال کرنے ہیں لہٰذا ہمیں بطور شہری خود بھی ذمہ داری اٹھانی پڑیں گی اس کے لیے کچھ معاملات ہیں جن پر ہمیں طویل عرصے تک عمل جاری رکھنا پڑے جس میں ماسک کا استعمال سماجی دوری، ہاتھوں کی صفائی وغیرہ شامل ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر دوبارہ بے احتیاطی کی گئی تو دوبارہ ہم اسی نازک صورتحال کا شکار ہوسکتے ہیں جو اس سے قبل تھی لہٰذا تمام احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھنا انتہائی اہم ہے۔






