اسلام آباد: حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان پارلیمنٹ میں قانون سازی کے حوالے سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے معاملے پر بڑی پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت انسداد دہشت گردی قانون میں حزب اختلاف کی ترامیم شامل کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔ حزب اختلاف کی ترامیم سینیٹ میں پیش کردہ بل میں شامل کی جائیں گی۔ اس سے قبل حکومت نے حزب اختلاف کی ترامیم قومی اسمبلی میں مسترد کر دی تھیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے دعویٰ کیا تھا کہ پارلیمنٹ قومی سلامتی سے متعلق کل تاریخی قانون سازی کرے گی۔ ایف اے ٹی ایف: اپوزیشن نے بدلے میں این آر او مانگ لیا، فیصل جاوید ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان سے رابطہ کیا اور ان سے صبح ہونے والی اہم قانون سازی پر ضروری مشاورت کی۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کی سہ پہر تین بجے منعقد ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیربرائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے اس ضمن میں سمری وزیراعظم کو ارسال کر دی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ضروری صلاح و مشورے کے بعد بابر اعوان نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ قومی سلامتی سے متعلق کل تاریخی قانون سازی کرے گی۔ ممتاز قانون دان بابر اعوان نے واضح طور پر کہا کہ قانون سازی حکومت اور حزب اختلاف کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ذرائع کے مطابق بابر اعوان سے بات چیت میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اہم امور پر قانون سازی کا عمل جاری رکھا جائے۔
