بھارتی صوبہ پنجاب میں جعلی شراب پینے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 86 تک جا پہنچی ۔۔ بھارت کے اکثر علاقوں میں سینٹائزر سے بنی شراب پینے سے بھی ہلاکتوں کا انکشاف بھارتی میڈیا کے مطابق پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ حالیہ 4 دنوں کے دوران امرتسر، گورداس پور اور تان تران کے علاقوں میں جعلی شراب پینے سے کم از کم 86 افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔ سنگھ نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت 7 سرکاری افسران معطل کر دئیے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں جعلی شراب سازی کے مراکز کی نشاندہی کرنے اور انہیں بند کرنے کے لئے شروع کئے گئے 100 سے زائد آپریشنوں میں 25 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی صوبے آندھرا پردیش میں بھی شراب نہ ملنے پر پانی اور سافٹ ڈرنکس میں سینیٹائزر ملاکر پینے سے درجنوں ہلاکتیں ہوگئی ہیں۔ بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں کورونا کے باعث شراب کی دکانیں بند ہیں ، شراب کی لت پوری کرنے کے لیے سینی ٹائزر کو پانی، سافٹ ڈرنکس اور جعلی شراب میں ملا کر پینا شروع کردیا جس کے باعث درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں۔
