جلال آباد: افغانستان کے شہر جلال آباد کی جیل پر داعش کے شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد30ہوگئی ہے جبکہ50سے زائد افرادزخمی ہیں جن میں اکثریت سیکورٹی اہلکاروں کی بتائی جارہی ہے‘حملے کے دوران جیل سے فرار ہونے والے سینکڑوں قیدیوں میں سے اکثر کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے.افغان صوبے ننگرہار کی کونسل کے رکن سہراب قادری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جلال آباد میں واقع افغان حکومت کی ایک جیل کے باہر اتوار کو پہلے دو کم شدت کے دھماکے ہوئے تھے جس کے بعد ایک کار میں شدید دھماکہ ہوا تھا سہراب قادری کے مطابق دھماکوں کے بعد حملہ آوروں کی سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں. حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے داعش کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جیل پرحملہ داعش کے جنگجوٓ ں نے کیا ہے.البتہ بیان میں حملے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں داعش کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے ادھر طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس حملے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے. ننگرہار کی وزارتِ صحت کے ایک ترجمان ظاہر عدل نے بتایا ہے کہ حملے میں سیکورٹی اہلکاروں سمیت 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں صوبائی گورنر کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تعداد 33 بتائی ہے ظاہر عدل کے مطابق زخمی ہونے والے 50 افراد میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے.ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے کہا ہے کہ جیل پر حملے کے دوران فرار ہونے والے 700 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے بین القوامی نشریاتی ادارے نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جس وقت حملہ ہوا، جیل میں تقریباً 1700 قیدی موجود تھے جن میں سے اکثر طالبان اور داعش کے جنگجو ہیں. البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ حملے کے دوران کل کتنے قیدی فرار ہونے میں کامیاب رہے تھے اور ان میں سے اب تک کتنے بدستور مفرور ہیں عطااللہ خوگیانی کے مطابق حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے‘یہ حملہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے عیدالاضحیٰ پر کی گئی تین روزہ جنگ بندی کا آخری دن تھا اس جنگ بندی کے دوران افغان حکومت نے طالبان کے مزید سینکڑوں قیدی رہا کیے ہیں.امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں سال فروری میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا کرنے کی پابند ہے جب کہ اب تک 4917 طالبان قیدی رہا ہو چکے ہیں طالبان کے مطابق وہ معاہدے کے تحت افغان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کی رہائی کا وعدہ پورا کر چکے ہیں. امن معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہونا ہیں۔افغان صدر اشرف غنی اور طالبان عندیہ دے چکے ہیں کہ عید الاضحیٰ کے بعد بین الافغان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو سکتا ہے.
