کوئٹہ: گورنربلوچستان جسٹس(ر) امان اللہ یاسین زئی نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر دوایٹمی قوتوں کے درمیان ہے اگر جنگ ہوئی تو ذمہ داری اقوام عالم پر بھی عائد ہوگی ،بین الاقوامی دنیا مسئلہ کشمیر پر خاموشی ختم کرکے اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے قراردادوں کے عین مطابق حل کریں تاکہ ایشیاءکو ایک بہت بڑی تباہی سے بچایا جاسکے ، 5اگست 2019ءتاریخ کا سیاہ دن ہے اس دن مودی سرکار نے آرٹیکل 370کوبلڈوز کرکے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کردی ،اس دن سے لیکرآج تک کشمیریوں کو محصورکرکے دنیا کا بہت بڑا جیل بنادیا گیا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ،صوبائی وزیرمیر سلیم کھوسہ ،پارلیمانی سیکرٹریز مبین خان خلجی ،بشریٰ رند ،رکن صوبائی اسمبلی قادر نائل ،وزیراعلیٰ بلوچستان کے کوارڈینیٹر بلال خان کاکڑ، خدا بخش لانگو ،موسیٰ جان اچکزئی ،عبدالفتح کاکڑ، انور اللہ گنڈاپور نے خطاب کیا۔اس موقع پرصوبائی وزیر میرعارف محمد حسنی ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اورنگزیب بادینی ،اے ڈی سی ثاقب کاکڑ ،اسسٹنٹ کمشنر صدر حمیرہ بلوچ، اسپیشل مجسٹریٹ سید سمیع اللہ آغا، ملک عادل بازئی ،سرور پانیزئی ودیگر بھی موجود تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنربلوچستان امان اللہ یاسین زئی نے کہاکہ 5اگست 2019ءتاریخ کا سیاہ دن ہے اس دن مودی سرکار نے آرٹیکل 370کوبلڈوز کرکے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کردی ،اس دن سے لیکرآج تک کشمیریوں کو محصورکرکے دنیا کا بہت بڑا جیل بنادیا گیا،مہاراجا کشمیرنے 1947ءاکتوبر میں مقبوضہ کشمیر اور لداخ کا بھارت کے ساتھ الحاق کیا تھا اس وقت بھارتی لیڈر شپ نے 370کے تحت کشمیر کو آزاد حیثیت منظور کیاتھا جس میں اقرارکیاتھاکہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیاجائے گااور اس وقت کشمیر کی آزاد حیثیت ابھی تک چلی آرہی تھی مگر 5اگست2019ءکو مودی سرکار نے کشمیر کی آزاد حیثیت ختم کرکے ظلم کے نئے دور کاآغاز کیااس دن سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دی گئی ہے ،بھارت کی کوشش ہے کہ کشمیریوں کی آزادی تحریک کو دباسکیں لیکن میں مودی سرکار کو خبردار کرناچاہتاہوں کہ بحیثیت مسلمان کشمیریوں کاجذبہ اور بھارت آج تک نہیں دبا سکا،بھارت کا کہ کشمیر ان کا اٹوٹ انگ ہے تو میں مودی سرکار سے کہتاہوں کہ وہ 4دن کرفیو اٹھا کردیکھیں تو پتہ چل جائے گاکہ کشمیریوں کا آزادی کا جذبہ کیسا ہے ،انہوں نے کہاکہ اپنے ہی آئین کو بلڈوز کرکے بھارت کا خیال ہے کہ انہوں نے کشمیر کو بھارت کے ساتھ الحاق کردیاہے میں سمجھتاہوں کہ بھارت اس کامیاب نہیں ہوسکتا،میں عالمی برادری ،اقوام متحدہ کی توجہ مسئلہ کشمیر کی طرف مبذول کراناچاہتاہوں کہ مسئلہ کشمیر اہم مسئلہ اوردو ایٹمی قوتوں کے درمیان ہے اگر جنگ ہوئی تو اس کی ذمہ داری صرف پاکستان اور بھارت نہیں بلکہ اقوام عالم پر بھی عائد ہوگی ،اقوام عالم خاموشی ختم کرکے اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق حل کریں تاکہ ساﺅتھ ایسٹ ایشیاءکو بڑی تباہی سے بچایاجاسکے ،کشمیر کی خصوصی ختم کرنے کے خلاف جس طرح پاکستانیوں نے آواز بلند کی آئندہ بھی اپنی آواز کے ذریعے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرینگے اور ان کا بھرپور ساتھ دیںگے ۔آج یوم استحصال اسی لئے منایاجارہاہے تاکہ دنیا کوبتایاجائے کہ بلوچستان کی عوام کشمیریوں کے ساتھ ہے ،وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کی پارلیمنٹ میں یہ اعلان کیاتھاکہ آج سے میں دنیا میں کشمیر کا بحیثیت نمائندہ وکیل ان کی نمائندگی کروں گا اور دنیا کو کشمیریوں پر جاری مظالم سے آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔
