کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے بلوچستان کی عوام کسی سے پیچھے نہیں ،محنت اور عملی جدوجہد سے بین الاقوامی میڈیا مجبوراََ کشمیر پربات کررہی ہے ،الفاظ کااستعمال آسان لیکن عملی جدوجہد سے ہی لوگوں کا بھروسہ مضبوط ہوتاہے ،پاکستانی حکومت اور سیاسی جماعتوں کی متفقہ طورپر نیا نقشہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر ایک قدم آگے جاناچاہتاہے اور یہ بہت بڑا قدم ہے اور عملی طورپر اس کے نتائج بہتری کی صورت میں ملیں گے ،بلوچستان کی سرزمین ،لوگ اور یہاں کے قبائل کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ نیک تمناﺅں ،عملی کردار کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جدوجہد جاری رہے گی ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل ریلی میں مختلف سیاسی جماعتوں،سول سوسائٹی کے تنظیموں اوردیگر نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہاکہ 5اگست2019ءکے حوالے سے آج ہم یہاں جمع ہوکر اس بات کی تائید کررہے ہیں جس کو ہم نے ایک سال پہلے شروع کیا تھا بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہمارا فرض بنتاہے کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہد کو کسی بھی صورت بیان ،پروگرام ،ریلی ،جلسہ یا کسی بھی فورم چاہے وہ ایک شخص کیوں نہ ہو اپنے احساسات اور جذبات میں پیش کرے ،مظاہرے ،ریلی اور جلسے کی ان لوگوں کو فرق پڑتاہے جو جبر سے گزررہاہے ،غم اور تنگ دستی میں جب کوئی رشتہ دار اور دوست ہمارے غم پر اپنے جذبات اور خیالات بیان کرتے ہیں تو ہمارا دل چوڑا ہوجاتاہے بلوچستان کے لوگوں نے پچھلے ایک سال میں جس انداز میں کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ یکجہتی اور خیالات کااظہار کیاہے ،بلوچستان دوسرے علاقوں کی طرح بہت خوشحال نہیں یہاں بدحالی اور معاشی کمزوری ہے میڈیا کی رسائی نہیں ہے رقبے بہت بڑا ہے لیکن چیزوں کو آگے لے جانے میں مشکلات کاسامنا ہے لیکن اس کے باوجود پسماندگی میں جب کوئی شخص کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتاہے تو کشمیر کی عوام کی جذبات دس گنا بڑھ جاتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ ہم نے جس انداز میں اپنے جذبات کااظہار اور یکجہتی کی ہے بلوچستان کے لوگ دنیا میں کسی قسم سے پیچھے نہیں ہوگا ہم اپنی محنت اور مدد کشمیریوں کیلئے آگے رہینگے ،یہی جذبہ ہمارے دلوں میں ہوناچاہےے ،اسی جذبے کے تحت ہم نے مظلوم کیلئے آواز بنناہے ،انہوں نے کہاکہ بھارت اپنی جبر کو دوام دینے کیلئے ہر طریقہ اپنائے گا اور اپنا رہاہے پچھلے ایک دو سال میں جس طرح پاکستانیوں نے دنیا میں کشمیریوں کی مشکلات اور بھارت کا وہ چہرہ جو 70سالوں سے جو نظرنہیں آرہا یا جو نظرآرہاتھا تو نظرانداز کیاجارہاتھا یا دکھایانہیں جارہا آج پہلی بار بین الاقوامی میڈیا مجبوراََ کشمیر پر بات کررہی ہے اس جدوجہد میں بلوچستان کے لوگ بھی شامل ہیں ،کشمیر کے حوالے سے بلوچستان کے لوگ سرفہرست اور اپنی محنت سے کشمیریوں کو یہ پیغام دیںگے کہ وہ ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ ہرپلیٹ فارم پر موجود رہیںگے ۔انہوں نے کہاکہ الفاظ کااستعمال آسان ہے لیکن عملی کام سے لوگوں میں بھروسہ پیداہوتاہے کہ کچھ لوگ اس جدوجہد کو کامیاب ہوتے دیکھناچاہتے ہیں ،تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طورپر نئے نقشے جس میں چیزوں کو واضح کیاہے اتحادی حکومتیں اس بات پر بھروسہ رکھتی ہے کہ ہم چیزوں کو عملی طورپر آگے لے جاناچاہتے ہیں ،دنیا مجبور ہوگی کہ پاکستان نے بہت بڑا قدم اٹھایاہے کشمیری جب نیا نقشہ دیکھے گی توانہیں احساس ہوگاکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک قدم آگے جاناچاہتاہے اس محنت کے نتائج بہتری کی صورت میں ملیںگے ،بلوچستان کی سرزمین ،لوگ اور یہاں کے قبائل کشمیریوں کے ساتھ نیک تمناﺅں ،عملی کردار کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے جدوجہد جاری رہے گا۔
