مجھے کمر کی تکلیف ہے، اس لیے زیادہ کھڑا نہیں ہو سکتا، شہبازشریف

مجھے کمر کی تکلیف ہے، اس لیے زیادہ کھڑا نہیں ہو سکتا، شہبازشریف

سوشل اکاونٹس پر لنک بیجھیں

آج احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف،حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی ہے ، دونوں ملزمان کا صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ مقدمہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ آج شہباز شریف احتساب عدالت پیش ہوئے۔ روسٹروم پر آکر شہباز شریف نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ جج صاحب یہ ایک جھوٹا کیس ہے، ایم پی اے نے ترقیاتی فنڈ لیے تھےجو ہر ایم پی اے لیتا ہے، میں نے پنجاب کی ساڑھے 12سال خدمت کی ہے۔ یک جانب کھربوں روپے کے منصوبوں میں اربوں روپے بچائے تو دوسری جانب میں ایک گندے نالے کے کیس میں جھک ماروں گا۔ شہبازشریف نے احتساب عدالت سے کہا کہ میں چین یا دوسرے ممالک صرف عوام کی خدمت کے لیے جاتا تھا، میں نے کبھی کروڑوں روپے کے ٹی اے ڈی اے نہیں لیے، میں نے گاڑی کیلئے سرکاری خزانے سے پیٹرول تک نہیں ڈلوایا۔ شہباز شریف نے عدالت کو اپنی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے متعدد اسپتال بنائے اور ترقیاتی منصوبے شروع کئے، پی کے ایل آئی جیسا سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال بنایا، میں نے ٹیم ورک سے پورے صوبے میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، میں نے شفافیت کی مثال قائم کی ہے اور کھربوں روپے کے منصوبوں میں اربوں روپے بچائے ہیں۔ سماعت کے موقع پر شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر رکھا ہے، کشمیر کمیٹی کا سیشن ہے، شہبازشریف کو اس سلسلے میں اسلام آباد جانا ہے، لہٰذا انہیں جانے کی اجازت دی جائے۔ جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ شہباز شریف کو فرد جرم عائد کرنے کیلئے طلب کیا ہے۔ شہباز شریف پر فردِ جرم عائد ہونی ہے اس لیے وہ اِدھر ہی رہیں۔ شہباز شریف نے جج سے کہا کہ عدالت کا حکم ماننے کو تیار ہوں، مجھے اسلام آباد جانا ہے، مجھے کمر کی تکلیف ہے، اس لیے زیادہ کھڑا نہیں ہو سکتا۔میں گاڑی میں بھی لیٹ کر جاتا ہوں۔ عدالت نے کہا کہ آپ کے وکیل کو فردِ جرم پر اعتراض ہے، ان کے دلائل سن لیں۔شہباز شریف کے وکیل نے استدعا کی کہ رمضان شوگر ملز کیس میں فردِ جرم عائد نہ کی جائے۔ جس پر فاضل جج نے ان سے کہا کہ آپ کے پاس تمام قانونی حقوق ہیں، وہ آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ مجھے فردِ جرم کی گراؤنڈ نہیں دی گئیں، فردِ جرم کی گراؤنڈ دیکھ کر میں قانون کے مطابق اپنا حق استعمال کرتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!