اسلام آباد:بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ملک بھر خصوصاً بلوچستان میں نقصانات ہوئے ہیں،سڑکیں پہلے نہ ہونے کے برابر تھیں جو تھیں وہ بھی تباہ ہو گئیں،فصلیں تباہ گاو¿ں کے گاو¿ں تباہ ہو گئے ہیںافسوس ہوتا ہے حکومت کی بے حسی ہے،اگر اعلان ہوتا کہ گیس یا تیل نکل آیا ہے تو وزیروں کی وہاں دوڑیں لگی ہوتی،سی پیک منصوبہ اعلان ہوتا تو صدر وزیراعظم بھی وہاں ہوتے،لیکن ہماری لاشوں پر آنسو بہانے والا بھی کوئی نہیں،خدا کے لئے بلوچستان میں چھوٹے ڈیم بنا دیں،چند سال پہلے8 اگست کو بلوچ وکلاءکی بڑی تعداد بم دھماکے میں مار دی گئی ، 8 اگست کے کمیشن کا نتیجہ بھی وہی نکلا جو حمود الرحمن کمیشن کا نکلا،کیا کوئٹہ دھماکے پر بننے والے کمیشن کی رپورٹ ایوان میں پیش ہوئی،انہوںنے کہا کہ ایک بچے کو زمہ دار بنایا گیا بتایا جائے اس بچے کے پیچھے کون تھااو رکمیشن کی رپورٹ یہاں پیش کی جائے،اختلاف رائے رکھنے والوں کو ملک دشمن اور غدار قرار دیا جاتا ہے 8اگست بارے قاضی فائز عیسیٰ رپورٹ کو ایوان میں پیش کیا جائے بچے کی تصویر دکھا کر ہمیں کہا گیا کہ یہ بچہ وکلاءکا قاتل ہے کاسیصاحب کو قتل کر کے پروگرام کے تحت دھماکہ کیا گیا یہ کس کی سوچ تھی قاضی فائز کی رپورٹ کے اسمبلی میں پیش کیا جائے انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں جو کچھ ہوا وہ باعث افسوس ہے جمہوریت کا حسن اختلاف رائے ہے اگر اختلاف رائے کو نکال دیا جائے تو نہ جمہوریت اور نہ جمہوری ادارے مضبوط ہو سکتے ہیں اختلاف رائے رکھنے والوں کو ملک دشمن ‘ غدار اور ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے پہلے ہی میں نے بڑی فہرست دی تھی ملک کے غداروں کے محترمہ فاطمہ جناح سے لے کر جی ایم سید اور بلوچستان کے سب ابن غدار ہیں کوئی ایسا نہیں بچا کیا اختلاف رائے رکھنا غداری ہے انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں ترمیم لائیں کہ کسی بھی معزز ممبر کو ایوان کے اندار اختلاف رائے کی اجازت نہیں ملکی بڑی جمہورتیں جن سے ہم نے جمہوریت سیکھی یورپی یونین کے رہنا ہے یا نہیں رہنا اس میں عوام اور ممبران نے اپنی رائے دی اور اکثریت نے یورپی یونین کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے سب سے لبیک کیا کسی نے یہ نہیں کہ کسی نے اختلاف رائے رکھ وہ یورپ کا ایجنٹ ہے کسی ممبر کو یہ نہیں کہا گیا جس نے اختلاف رائے رکھا کسی کو ایجنٹ نہیں کہا گیا سب ایک ایوان میں بیٹھے ہیں ہم ان کی بری عادتوں کو اپناتے ہیں لیکن کم سے کم ان کی اچھی عادتیں بھی اپنائیں جائیں اختلاف رائے رکھنے کیلئے ہمیں کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں یہ ہمار ا حق بنتا ہے کریں بھی ہم کیا کریں ایوان میں ہمیں بات کرنے کی اجازت بھی نہیں عوام کی ہم سے توقعات ہیں عوام نے ہمیں اور آپ کو ووٹ دے کر بھیجا ہے ان کی کچھ امیدیں وابستہ ہیں ان کے جملہ مسائل ہیں ان پر بات کریں گے علاقائی مسائل ‘ قومی مسائل اور ملکی مسائل اور ہم ان علاقوں میں ترقیاتی کام بھی کر رہے ہیں جب ہم ترقیاتی کام نہ کریں نہ ہم تقاریر کر سکیں نہ ہی اپنی رائے کا اظہار کر سکیں تو بہتر ہے ہمیں ڈمی بنا کر کرسیوں پر بٹھا دیا جائے اور ان میں دھاگے باندھ دیئے جائیں تو کٹھ پتلیاں ہوتی ہیں ملک ہمیں کٹھ پتلیوں سے چلایا گیا جو ہمیں نچھاتے ہیں ہم ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں ایک دوسرے کو ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں یہاں تک بد کلامی ‘ گالیاں تک دیتے ہیں ہم اس کو کو کیا سکھا رہے ہیں جو ہمیں منتخب کر کے یہاں تک لائے ہمیں انہیں کہتے ہیں ہم سے سیکھیں ہم سوچیں جب انہوں نے عوام سے سیکھا تو اس قوم کا کیا مستقبل ہوگا اللہ ہی جانے ۔
